English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

ضمنی انتخابات میں عمران خان کی کامیابی کیا حکومتی اتحاد کی حکمت عملی ناکام ہوگئی !!

القمر

اسلام آباد ( شفقنا نیوز ) ضمنی انتخابات میں عمران خان کی 8 نشستوں میں سے 6 پرکامیابی کو سابق وزیراعظم کا سیاسی چھکا قرار دیا جارہا ہے جبکہ چیئرمین تحریک انصاف نے اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے لانگ مارچ اکتوبر میں ہی کرنے کا باؤنسر مارا تو حکومت نے بھی اس کا کرارا جواب دیا ہے۔ حکومتی اتحاد نے متفقہ اعلامیہ جاری کرتے ہوئے کہاکہ انتخابات اور آرمی چیف تعیناتی کا فیصلہ حکومت ہی کرے گی- اور اگر عمران خان نے جتھے کی صورت میں اسلام آباد پر حملہ آور ہونے کی کوشش کی تو انھیں 25 مئی کے مقابلے میں 10 گنا زائد طاقت کا سامنا کرنا پڑے گا۔

اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ حکومت کی اتحادی جماعتوں نے مشترکہ طور پر پاکستان تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان کا الیکشن جلد کرانے کا مطالبہ دوٹوک طور پر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں انتخابات کب ہونے ہیں، اس کا فیصلہ حکومتی اتحادی جماعتیں کریں گی۔ کسی جتھے کو طاقت کی بنیاد پر فیصلہ مسلط کرنے کی اجازت نہیں دیں گے۔ قانون ہاتھ میں لینے والوں کو آئین اور قانون کے مطابق نمٹیں گے۔

مشترکہ بیان میں سابق صدر آصف علی زرداری ، پاکستان مسلم لیگ (ن) کے قائد اور سابق وزیراعظم محمد نوازشریف کے خلاف بیانات اور الزامات کی شدید الفاظ میں مذمت کی گئی۔     بیان میں کہاگیا کہ وزیراعظم پاکستان قانون کے مطابق آرمی چیف کی تقرری کا فیصلہ کریں گے، فارن فنڈڈ فتنے کی دھونس، دھمکی اور ڈکٹیشن پرکوئی فیصلہ نہیں ہوگا۔ بیان میں کہاگیا کہ آرمی چیف، حساس اداروں کی قیادت، افسران، چیف الیکشن کمشنر سمیت دیگر کو نشانہ بنانے کا مقصد ’بلیک میلنگ‘ ہے جو قطعا سیاسی رویہ نہیں بلکہ سازش کا حصہ ہے جسے کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ آئین اور قانون میں واضح ہے کہ آرمی چیف سمیت دیگر عہدوں پر تقرری وزریراعظم کا دستوری اختیار ہے۔

حکومتی بیان کےمطابق اقتدار سے محروم شخص قومی اداروں کو ایک سوچے سمجھے ایجنڈے کے تحت نشانہ بنارہا ہے۔ پاک فوج کے شہداءکے خلاف غلیظ مہم، فوج میں بغاوت کے بیانات اور مخالفانہ رویئے کی حوصلہ افزائی جیسے اقدامات ملک دشمنی کے مترادف ہیں جن سے آئین اور قانون کے مطابق نمٹاجائےگا۔غنڈہ گردی اور دھونس کی بنیاد پر آئین ، جمہوریت اور نظام کوغلام نہیں بننے دیاجائے گا۔ بیان میں یہ بھی واضح کیا گیاکہ ملک کی معیشت اور سیلاب متاثرین کی بحالی اس وقت اولین قومی ترجیح ہے جس پر کوئی سمجھوتہ نہیں کیاجائے گا۔ حکومت، اداروں اورعوام کا اتفاق ہے کہ سیاسی عدم استحکام پیداکرنے کی اجازت کسی کو نہیں دی جائے، جبکہ معیشت کو پٹڑی سے اتارنے اور وسائل کی متاثرین سیلاب تک رسائی کے عمل کو کسی صورت متاثر نہیں ہونے دیا جائے گا۔

بیان میں کہاگیا کہ 16 اکتوبر2022 کو ہونے والے ضمنی انتخابات کے بعد اتحادی حکومت کی قومی اسمبلی میں نشستوں کی تعداد 174 سے بڑھ کر 176 ہوگئی ہے جبکہ فتنے کے تکبر کی وجہ سے قومی اسمبلی میں پی ٹی آئی کی 8 نشستیں کم ہوگئی ہیں۔

دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کی جانب سے بھی اس کا جواب دیتے ہوئے مرکزی نائب صدر پاکستان تحریک انصاف اورترجمان فواد چوہدری نے ردعمل دیتے ہوئے کہاکہ اتحادی جماعتوں کا مشترکہ اعلامیہ امپورٹڈ گروہ کی سیاسی سوچ اور مجرمانہ ذہنیت کا عکاس ہے، عوامی مینڈیٹ کی یوں کھلی توہین پراصرار مایوس  کُن ہے، اتوار کے ضمنی انتخابات نئے الیکشنز کیلئے ایک ریفرنڈم کی حیثیت رکھتے تھے، اس عوامی ریفرنڈم کے فیصلے کا احترام کیاجانا چاہئیے، جمہوریت میں عوام کی مرضی اور منشاء کو بنیادی حیثیت حاصل ہوتی ہے۔

فواد چودھری کا کہنا تھا کہ عوامی مینڈیٹ کی توہین کا تصورمجرموں کے ہاں تو ملتا ہے، جمہوریت پراعتقاد رکھنے والی سیاسی قوتیں اسے گناہ کبیرہ تصور کرتی ہیں،عوامی مینڈیٹ کی توہین کے کلچر پرمستحکم جمہوریت کی بنیادیں استوارنہیں کی جاسکتیں، ہماری تاریخ گواہ ہے کہ عوام کے مینڈیٹ کی توہین کی روایت نے قومی ڈھانچے کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچایا ہے،  17 جولائی کے بعد 16 اکتوبر کے ضمنی انتخابات کے ذریعے عوام نے فیصلہ دیا ہے کہ وہ ملک میں ازسرِ نو انتخاب چاہتے ہیں،  نااہل، نکمّا اور مفاد پرست گروہ محض اپنے ذاتی مفاد کیلئے ملک کو بحران کے سپرد کئے رکھنے پر بضد ہے،  معیشت کی نہایت کمزور اور پیچیدہ صورتحال بحران کے تسلسل کی قطعاً اجازت نہیں دیتی، معاشی و سیاسی بحران کے حل کی راہ صاف شفاف انتخابات کے فوری انعقاد سے جڑے سیاسی استحکام سےنکلتی ہے، قوم کسی طور مجرموں کو نظام پر قابض رہ کر ملکی سلامتی و یکجہتی کو خطرے میں ڈالتے رہنے کی اجازت نہیں دے گی- معاملات سیاسی عاقبت نا اندیشوں کے رحم و کرم پر چھوڑنے کی بجائے ریاست سنجیدگی سے بحران کے فوری حل کی تدبیر کرے،معقولیت سے دستبرداری پر اصرار جاری رہا تو فیصلہ عوام کریں گے-

 

شفقنا اردو

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے