English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

بھارہ کہو بائی پاس منصوبے پر آئندہ سماعت تک مزید کام ملتوی

القمر

اسلام آباد ہوئیکورٹ  میں مری، کشمیر اور گلیات کے رہائشیوں، سیاحوں کے لیے بھارہ کہو بائی پاس منصوبے کے خلاف درخواست پر سماعت ہو ئی جس پر عدالت نے بھارہ کہو بائی پاس منصوبے پر آئندہ سماعت تک مزید کام سے روک دیا ہے ۔

فاضل جج اور وکیل سی ڈی اے کے درمیان بھارہ کہو منصوبے پر دلچسب مکالمہ ہوا ہے جس میں فاضل جج اسلام آباد ہائی کورٹ نے ریمارکس دیئے کہ قائداعظم یونیورسٹی کی کوئی عمارت متاثر نہیں ہورہی، پھر کیسے اسٹے آرڈر دے دیں ؟جس پر وکیل درخواست گزار نے کہا کہ سڑک قائداعظم یونیورسٹی کے اندر سے گزاری جارہی ہے۔

اسلام آبادہائیکورٹ نے ریمارکس دئیے کہ یونیورسٹی کا فیصلہ کسی فرد نے نہیں انتظامیہ نے کرنا ہے، وائس چانسلر کو بلالیتے ہیں کیا انہیں دی گئی زمین قبول ہے ؟ مجھے تو لگتا ہے کہ قائداعظم یونیورسٹی کو زیادہ قیمتی زمین واپس دی جارہی ہے، پھر یوں کرتے ہیں آپ سب لوگ موقع پر جائیں، جو جگہ دی جارہی ہے اسے فنانس کردیں، پھر ٹھیکیدار کو کہیں قائداعظم یونیورسٹی کے اساتذہ کو اٹھا کر باہر پھینک دے۔

وکیل درخواست گزار نے کہا کہ بھارہ کہو بائی پاس منصوبہ ماسٹر پلان کی خلاف ورزی ہےجس پر عدالت نے استفسار

کیا کہ ایسی بات نہ کریں، سی ڈی اے جس کے خلاف جانا چاہے اسے نادہندہ بنادیتا ہے۔

، وکیل سی ڈی اے کا کہنا تھا کہ قائداعظم یونیورسٹی ایک ارب روپے سے زائد کی نادہندہ ہے، ہم نےجو زمین قائداعظم یونیورسٹی کو دی وہ تمام نقائص سے پاک ہے۔

وکیل یونیورسٹی قائداعظم یونیورسٹی کی زمین استعمال کرکے بھارہ کہو بائی پاس بنایاجارہا ہے ۔

اسلام آبادہائیکورٹ نےاستفسار  کیا کہ کیا بھارہ کہو بائی پاس عوامی منصوبہ نہیں ہے ؟ ماحولیاتی ایجنسی سے منصوبے کا ماحولیاتی جائزہ کرایا گیا ؟ کیا سی ڈی اے کے پاس قائداعظم یونیورسٹی کو دی گئی زمین کا قبضہ ہے؟  سعودی عرب میں تو مساجد گرا کر سڑک بنا دیتے ہیں،کیا قائداعظم یونیورسٹی کی عمارت گرا کر روڈ بنا رہے ہیں؟

یا د رہے کہ قائداعظم یونیورسٹی کے پروفیسرز نے بھارہ کہو بائی پاس منصوبے کو اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کیا ہے ۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے