English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

حکومتی اتحاد و تحریک انصاف کی محاذ آرائی ،اسلام آباد کو کنٹینر سٹی بنانے کا قصور وار کون؟

القمر

اسلام آباد ( انتظار حیدری) وفاقی دارالحکومت اسلام آباد ایک مرتبہ پھر قلعہ بند ہونے کی طرف گامزن ہوگیا ہے، اسلام آباد کے پانچ بڑے داخلی گیٹس کیساتھ ریڈ زون کے چاروں راستوں پر بھی رکاوٹیں پہنچا دی گئیں، 8 سال قبل جس جگہ عمران خان اور طاہر القادری نے عید الاضحی منائی وہ سبزہ زار ایک مرتبہ پھر سرسبز و شاداب تو ہوگیا مگر پھر سے اسے اجاڑنے کے لئے سب نے کمر کس لی ہے۔ تحریک انصاف کے لانگ مارچ کو ہر ممکن طریقے سے روکنے اور وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی سیکیورٹی کیلئے وزارت داخلہ کو 33 کروڑ کے مقابلے میں  41 کروڑ روپے کی سپلیمنٹری گرانٹ دی جاچکی ہے-

شفقنا نیوز کو موصولہ دستاویزات کے مطابق وزارت داخلہ نے پانچ ماہ قبل 25 مئی کو ہونے والے پی ٹی آئی کے لانگ مارچ پر 33 کروڑ 70 لاکھ کے قریب رقم خرچ کی تھی – کنٹینرز اور گاڑیوں کے کرائے کی مد میں 21 کروڑ 70 لاکھ 10 ہزار 351 روپے خرچ کئے گئے جبکہ آنسو گیس کے شیل اور دیگر اسٹور کی مد میں 3 کروڑ 15 لاکھ 96 ہزار 624 روپے کے اخراجات کئے گئے، سرکاری دستاویز کے مطابق قانون نافذ کرنے والے اداروں کے کھانے پینے کے اخراجات میں 4 کروڑ 78 لاکھ 92 ہزار 770 روپے جبکہ دیگر اخراجات 4 کروڑ 59 ہزار روپے خرچ کئے گئے- وفاقی حکومت کے ذرائع کے مطابق ماہ اکتوبر میں متوقع لانگ مارچ کے خدشے کے پیش نظر وزارت داخلہ نے وفاقی حکومت نے گزشتہ انتظامات سے زیادہ بہتر انتظامات کرنے کے لئے خطیر رقم طلب کی تھی جو وفاقی کابینہ کی منظوری کے ساتھ وزارت داخلہ کو فراہم کی جارہی ہے۔

ذرائع کے مطابق 41 کروڑ روپے کا سپلیمنٹری بجٹ وزارت داخلہ کو دیا گیا ہے تاکہ عمران خان کے لانگ مارچ کو روکنے کیلئے تمام وسائل استعمال کیئے جاسکیں اور انھیں اس ضمن میں کھلی چھوٹ دی گئی ہے- اسی سلسلے میں وفاقی وزارت داخلہ میں مسلسل اہم اجلاس کا سلسلہ جاری ہے، ایک اعلی سطحی میٹنگ وفاقی وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ کے زیر اہتمام کچھ روز قبل ہوئی جس میں سیکرٹری داخلہ، آئی جی اسلام آباد، چیف کمشنر سمیت چاروں صوبائی چیف سیکرٹریز اور آئی جیز کو مدعو کیا گیا جبکہ گلگت بلتستان اور آزاد جموں و کشمیر کے چیف سیکرٹریز بھی خصوصی طور پر مدعو کیے گئے اورعمران خان کے لانگ مارچ کو روکنے کی حتمی حکمت عملی پرغورکیا گیا-

ذرائع کا بتانا ہے کہ اسی اجلاس میں وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کو مکمل طور پر تحفظ فراہم کرنے کے لیے بڑی رکاوٹیں کھڑی کرنے کے ساتھ ساتھ صوبائی سرکاری اداروں کو کہا گیا وہ وفاقی حکومت کے خلاف سیاسی لانگ مارچ کا حصہ نہ بنیں، اس وقت جی ٹی روڈ روات پر کنٹینرز کی بڑی تعداد کو رکھا گیا ہے، جڑواں شہروں کو ملانے والے مرکزی راستے فیض آباد انتر چینج پر بھی سینکڑوں کے حساب سے کنٹینرز پہنچائے گئے ہیں، لاہور اسلام آباد موٹروے اور سری نگر ہائی وے پر بھی ہر طرف کنٹینرز کی بہتات ہے تو تاریخی جی ٹی روڈ پر ترنول کا مقام بھی کنٹینرز سے خالی نہیں ہے اس کے علاوہ بہارہ کہو پر بھی کنٹینروں کے ذریعے شدید رکاوٹیں کھڑی کی جارہی ہیں تاکہ کسی بھی راستے سے سابق وزیراعظم عمران خان کے لانگ مارچ کو اسلام آباد داخل نہ ہونے دیا جائے اور وفاقی دارالحکومت مکمل طور پر مقفل کرنے کی ظاہراً حکمت عملی نظر آرہی ہے اسی طرح سے اندرون شہر نظر دوڑائی جائے تو زیرو پوائنٹ، جناح ایونیو، کنونشن سینٹر چوک پر بھی بڑی تعداد میں جہاں کنٹینرز پہنچا دیئے گئے ہیں وہیں سرینا چوک، مارگلہ روڈ کے کناروں پر بھی کنٹینرز کو رکھ دیا گیا ہے تاکہ بوقت ضرورت انہیں رکھ کر سڑک کو مکمل بند کیا جاسکے۔

ایمبیسی روڈ پر نادرا چوک کو مکمل طور بند کیا گیا ہے اسی طرح ڈی چوک کو بھی مکمل مقفل اور ریڈ زون جانے والے ایک ایک راستے کے علاوہ میریٹ ہوٹل پر بھی کنیٹنرز کی ایک دیوار بنادی گئی ہے البتہ ایک تنگ سی سڑک کو صرف آنے جانے کے لیے چھوڑ دیا گیا ہے جسے کسی ہنگامی صورت میں چند منٹس میں بند کیا جاسکتا ہے اس لحاظ ایک طرف اسلام آباد کے تمام بڑے پانچوں راستوں جبکہ ریڈ زون کی بھی پانچویں راہداریوں کو بوقت ضرورت فوری طور پر مقفل کیا جاسکتا ہے، جس سے ممکنہ مارچ کے دوران وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی زندگی عملی طور مفلوج ہوکر رہ جائیگی- البتہ یہ پہلی مرتبہ نہیں ہورہا بلکہ اس سے قبل بھی اسلام آباد کو اسی انداز میں بند کیا جاتا رہا ہے۔

8 سال قبل بھی اسلام آباد کا ڈی چوک ایسے ہی مناظر پیش کرتا رہا ہے البتہ اس وقت وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان اور وزیراعظم میاں نواز شریف تھے اور آج یہ ذمہ داری میاں شہباز شریف اور رانا ثناء اللہ نبھا رہے ہیں- اکتوبر 2014ء میں عمران خان اور ڈاکٹر طاہر القادری نے عید الاضحیٰ یہاں منائی، اجتماعی قربانیاں کی گئیں، ڈی چوک کا سبزہ زار اجڑا تو پارلیمنٹ کے سبزہ زار میں خیمہ بستی سجی اور سپریم کورٹ کی باؤنڈری پر بھی کپڑے لٹکائے گئے- آج سے 8 سال قبل بھی پاکستان کو سیلاب سمیت دیگر مسائل کا سامنا تھا اور آج بھی صورتحال اس سے قطعی مختلف نہیں- اس سے کچھ عرصہ قبل ڈاکٹر طاہر القادری نے ڈی چوک کا رخ کیا تھا جنہیں ریڈ زون داخلے سے قبل اس وقت کے وزیر داخلہ مرحوم سینیٹررحمان ملک نے روکا تو دوسری جانب آج کے مشیر وزیراعظم اور اس وقت کے وزیر اطلاعات قمر زمان کائرہ نے ڈاکٹر طاہر القادری کے ساتھ کامیاب مذاکرات کئے، وفاقی دارالحکومت اسلام آباد کی فضا ایک مرتبہ پھر جہاں احتجاج، گو گو کی صداؤں سے گونج رہی ہے تو وہیں دوسری طرف ڈی چوک کے سبزہ زار ایک مرتبہ پھر اپنے جوبن سے قبل یہ باغیچہ سیکیورٹی فورسز اور احتجاجوں کی نذر ہونے کے قریب ہے۔

کنٹینرز اور لانگ مارچ روکنے کیلئے ممکنہ اقدامات کی صورتحال نے راولپنڈی اسلام آباد کے مکینوں کو انجانے خوف میں  مبتلا کررکھا ہے، اکثر شہریوں کا کہنا ہے کہ حکومت کوئی بھی ہو اور اپوزیشن کسی بھی جماعت کی ہو اس شہر کی کوبصورتی اور انفرادیت کو برباد کرنے میں ہر ایک نے برابر کا حصہ ڈالا ہے، شہریوں کے مطابق کسی حکومتی عہدیدار کے پاس اس سوال کا جواب نہیں کہ ان اقدامات اور رکاوٹوں کے حائل کرنے اور اسے کنٹینر سٹی بنانے سے رہائشی افراد کو جن دشواریوں اور مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس کا ذمہ دار کون ہے، عوام کو ہونے والے نقصانات کا ازالہ کس کے کھاتے میں ڈالا جائے گا، بین الاقوامی طور پر پاکستان خصوصا جدید اور خوبصورت ترین وفاقی دارالحکومت کے امیج کی خرابی کے اثرات کیسے ختم کیئے جاسکیں گے۔؟

شفقنا اردو

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے