امریکہ کے انقرہ کے سفیر’ جیفری ایل فلیک’ نے کہا ہے کہ ” سکیورٹی شعبوں میں اپنے نیٹو اتحادیوں ‘ترکی اور یونان’ کے ساتھ ہمارے تعاون کی بنیاد، ساجھے داروں میں سے کسی ایک کی جانبداری پر یا پھر توازن میں خلل ڈالنے کی پالیسی پر استوار نہیں ہے”۔
امریکی سفیر فلیک نے سفارت خانے کے سوشل میڈیا پیج سے واشنگٹن کی ایجئین پالیسی کے بارے میں بیان جاری کیا ہے۔
انہوں نے کہا ہے کہ حالیہ دنوں میں مجھ سے، بحیرہ ایجئین میں سکیورٹی کے بارے میں، امریکی پالیسی میں کوئی تبدیلی ہونے یا نہ ہونے کا سوال پوچھا جا رہا ہے۔ میرا جواب ہے کہ نہیں ہماری پالیسی میں کوئی تبدیلی نہیں ہوئی۔ سکیورٹی شعبوں میں اپنے نیٹو اتحادیوں یعنی ‘ترکی اور یونان’ کے ساتھ ہمارے تعاون کی بنیاد، ساجھے داروں میں سے کسی ایک کی جانبداری پر یا پھر توازن میں خلل ڈالنے کے موقف پر استوار نہیں ہے”۔
فلیک نے کہا ہے کہ ہمارا اوّلین ہدف علاقے میں امن و سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔ اس وقت ہماری مشترکہ کوششیں، روس اور یوکرین کے درمیان جاری بے رحم اور بے معنی، جنگ کو ختم کروانے پر مرکوز ہیں۔ ترکیہ، خاص طور پر غذائی سلامتی کے معاملے کو مرکزِ توجہ بنا کے اور یوکرین اور روس کے درمیان مذاکرات شروع کروا کے، نہایت قابل قدر تعاون جاری رکھے ہوئے ہے۔
فلیک نے کہا ہے کہ یونان کے ساتھ دفاعی شعبے میں ہمارا تحاد، یوکرین اور وسطی و مشرقی یورپ کے نیٹو اتحادیوں کے ساتھ تعاون کر کے، نیٹو کے مشرقی بازو کو تقویت دینے کی شکل میں ہے۔
امریکی سفیر ‘جیفری ایل فلیک’ نے کہا ہے کہ "ترکی اور یونان کے ساتھ ہمارے اتحاد کا سرفہرست ہدف پورے علاقے میں امن، سلامتی اور استحکام کو یقینی بنانا ہے”۔
