19 اکتوبر کو تحریک طالبان پاکستان نے اپنے رابطے کی ویب سائٹ پر ایک مذمتی اور وضاحتی بیان جاری کیا ہے جس میں ان کا کہنا ہے کہ ان کا خیبر پختونخوا کے سینئر وزیر عاطف خان کو لکھے گئے دھمکی آمیز خط سے کوئی تعلق نہیں ہے۔
17 اکتوبر کو خیبر پختونخوا حکومت کے سینئر وزیر عاطف خان کو ایک خط موصول ہوا تھا جس میں کہا گیا تھا کہ آپ ہماری مطلوب لسٹ میں ہیں۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپکو اس لسٹ سے نکالا جائے تو ہمیں 80 لاکھ روپے دیں۔ خط میں عاطف خان کو پیسوں کا انتظام کرنے کے لیے 3 دن کا ٹائم دیا گیا تھا۔ اس خط کے ذریعے سے رقم کا مطالبہ کرنے والوں نے اس خط کو تحریک طالبان پاکستان کے ساتھ منصوب کرنے کی کوشش کی تھی۔
اس لیے تحریک طالبان پاکستان نے 19 اکتوبر کو اس خط سے لاتعلقی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ان کا اس خط سے اور اس کے متن سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اس معاملے کی تحقیق کی جائے گی اور مجرموں کو سزا دی جائے گی۔
یاد رہے کہ پچھلے کچھ دنوں سے ٹی ٹی پی کی طرف سے خیبر پختونخوا حکومت کے اعلی آفیشلز سے بھتے کی ڈیمانڈ کی اطلاعات موصول ہوئی تھی جس کی وجہ سے حکومت پر اس کے سدباب کے لیے دباؤ بڑا تھا۔
