English Al Qamar Urdu جون 28, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

کیا آپ جانتے ہیں۔08

القمر

کیا آپ کو معلوم ہے کہ ترکیہ کے جنوب مشرقی علاقے اناطولیہ میں واقع ‘کوہِ نمرود’ یونیسکو کی عالمی ورثے کی فہرست میں شامل ہے؟

 

کوہِ نمرود ایک آتش فشانی پہاڑ ہونے کی وجہ سے بھی اور  انسانی ہاتھ سے بنائے گئے تاریخی آثار  کے حوالے سے بھی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ پہاڑ  1987 سے یونیسکو کی عالمی ورثے کی فہرست میں شامل ہے۔

 

دینی عقائد کی وجہ سے اہمیت کا حامل ‘کوہِ نمرود’ جنوب مشرقی اناطولیہ کے ضلعے آدیامان کی تحصیل قاہتا  کے جوار میں واقع ہے۔ 2150 میٹر بلند اس پہاڑ کویکم قبل مسیح میں ‘کوماگینے’ شہنشاہیت  کی طرف سے پُراسرار اور دیو ہیکل مجسموں سے بھر دیا گیا۔ شہنشاہیت  کے مشہور ترین بادشاہ ‘آنتیوخوس تھیوس’ کے نام پر پہاڑ پر نصب  10 میٹر  بلندی  کے حامل انسانی سروں کے مجسموں کو دورِ حاضر میں نمرود آثارِ قدیمہ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ ہر سال ہزاروں کی تعداد میں سیاح ان آثارِ قدیمہ کو دیکھنے کے لئے ترکیہ کا رُخ کرتے ہیں۔

 

ان آثارِ قدیمہ کو 1881 میں علاقے میں متعین انجینئر کارل سیسٹر  نے دریافت کیا۔ جرمن ماہرِ آثارِ قدیمہ’ اوٹو پنشٹین’ اور اس دور کے معروف سائنس دان عثمان حمدی بے، علاقے میں تحقیقات کے بعد، متعدد آثارِ قدیمہ اور دستاویز کو  منظر عام پر لائے۔ ان دریافتوں میں شامل تحریری کتبے  کی بدولت علاقے کی تاریخ اور مجسموں کے بارے میں تفصیلی معلومات تک رسائی ہوئی۔ ماہرینِ آثارِ قدیمہ کے مطابق انسانی سروں کے یہ مجسمے نہ صرف تاریخ کے شاہد ہیں بلکہ اپنے دور کے مذہبی اعتقادات کی  علامتیں  بھی ہیں۔ ان مجسموں کو تمام ادیان اور ثقافتوں کو ایک پرچم تلے جمع کرنے کے لئے ڈیزائن کیا گیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے