وزیراعظم شہباز شریف اپنے وزرا کے ساتھ اہم دورہ پر چین جارہے ہیں۔ دفتر خارجہ کے ترجمان عاصم افتخار احمد نے کہا ہے کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف یکم نومبر سے چین کا دو روزہ دورہ کریں گے، وزیر خارجہ بلاول بھٹو زرداری سمیت اعلیٰ سطح کا وفد بھی ان کے ہمراہ ہوگا، وزیراعظم کو اس دورے کی دعوت عوامی جمہوریہ چین کی ریاستی کونسل کے وزیراعظم لی کی کیانگ نے دی ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان نے جمعہ کو یہاں پریس بریفنگ میں کہا کہ اس سال اپریل میں وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد وزیراعظم محمد شہباز شریف کا چین کا یہ پہلا دورہ ہوگا۔
چین کی کیمونسٹ پارٹی کے20 ویں نیشنل کانگریس کے اجلاس کے بعد وزیراعظم چین کا دورہ کرنے والے اولین رہنمائوں میں شامل ہیں۔ ترجمان نے کہا کہ وزیراعظم کا دورہ پاکستان اور چین کے درمیان قیادت کی سطح کے تبادلوں کے تسلسل کا اظہار ہے۔ وزیراعظم دورہ کے دوران صدر شی جن پنگ سے ملاقات کریں گے اور وزیراعظم لی کی کیانگ کے ساتھ وفود کی سطح پر بات چیت کریں گے۔
وزیراعظم محمد شہباز شریف کے دورے کے دوران فریقین باہمی سٹریٹجک تعاون کی شراکت داری کا جائزہ لیں گے اور علاقائی اور عالمی پیش رفت پر خیالات کا تبادلہ کریں گے۔
وزیراعظم نے گذشتہ دنوں سعودی ولی عہد اور وزیراعظم کی دعوت پر سعودی عرب کا دو روزہ سرکاری دورہ کیا، وزارت عظمیٰ کا عہدہ سنبھالنے کے بعد یہ وزیراعظم کا سعودی عرب کا دوسرا دورہ تھا جو دونوں برادر ممالک کے درمیان تعلقات کی ہم آہنگی کو ظاہر کرتا ہے۔ وزیراعظم نے سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان کو آئندہ دورہ پاکستان کی دعوت کا بھی اعادہ کیا۔ ترجمان نے ایک سوال کے جواب میں کہا ہے کہ پاکستان کے برطانیہ کے ساتھ خوشگوار اور کثیر الجہتی تعلقات ہیں، ہمارے تعلقات کی جڑیں مشترکہ تاریخ اور باہمی مفاد میں ہیں، برطانیہ میں کوئی بھی اقتدار میں ہو دونوں ملکوں کے تعلقات میں اضافہ ہوا ہے، وزیراعظم شہباز شریف نے رشی سونک کو کنزرویٹو پارٹی کا لیڈر اور برطانیہ کا وزیراعظم بننے پر مبارکباد دی ہے، وزیراعظم مشترکہ مفادات کو آگے بڑھانے اور پاک برطانیہ شراکت داری کو مزید گہرا کرنے کے لیے برطانیہ کے نئے وزیراعظم کے ساتھ کام کرنے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ وزیراعظم سونک کی قیادت میں برطانیہ کے ساتھ ہمارے تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان عاصم افتخار احمد نے پریس بریفنگ کے آغاز میں کینیا میں ممتاز صحافی اور اینکر پرسن ارشد شریف کی افسوسناک اور بے وقت موت پر دلی تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہماری دعائیں مرحوم کے اہل خانہ اور دوستوں کے ساتھ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس معاملے پر کئی سطحوں پر کینیا کے حکام کے ساتھ رابطے میں رہے ہیں جس میں مرحوم کی میت کی جلد وطن واپسی اور واقعے کی تحقیقات بھی شامل ہے۔ ترجمان نے کہا کہ وزیراعظم نے کینیا کے صدر سے بھی بات کی ہے اور پاکستان نے باضابطہ طور پر کینیا کی حکومت سے تفصیلی تحقیقات کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت نے کینیا کی پولیس اور متعلقہ حکام سے قتل سے متعلق حقائق جاننے کے لیے دو رکنی ٹیم بھی تشکیل دی ہے جو جمعہ کو کینیا روانہ ہوگئی ہے، وزارت خارجہ اور نیروبی میں پاکستان ہائی کمیشن ٹیم کے دورے میں سہولت فراہم کر رہا ہے۔ ترجمان نے کہا کہ پاکستان نے مقبوضہ کشمیر کی سنگین صورتحال پر گہری تشویش ظاہر کرتے ہوئے ضلع شوپیاں اور کپواڑہ میں فرضی مقابلوں میں شہریوں کی حالیہ ہلاکتوں کی شدید مذمت کی ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان نے کل جماعتی حریت کانفرنس کے سابق چیئرمین مولانا عباس انصاری کے سری نگر میں انتقال پر تعزیت کا اظہار کیا جنہوں نے کشمیری عوام کے حق خودارادیت کے لیے اپنی انتھک جدوجہد کے لیے برسوں جیلوں میں گزارے۔ ترجمان نے سری نگر میں کل جماعتی حریت کانفرنس کے صدر دفتر پر بھارتی فوج کی حمایت یافتہ ہندوتوا جنونیوں کے حالیہ حملے اور توڑ پھوڑ پر گہری تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ ایسی وحشیانہ کارروائیاں کشمیریوں کے آزادی کے لئے عزم کو پست نہیں کرسکتیں۔ انہوں نے کہا کہ مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی صورتحال تشویشناک ہے اور بھارت میں اقلیتوں کے ساتھ وحشیانہ سلوک عالمی برادری کے لیے سنگین تشویش کا باعث ہے۔ ترجمان نے کہا کہ حالیہ دورہ بھارت کے دوران اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے بھارت کو عالمی انسانی حقوق کے تئیں اس کی ذمہ داری اور اقلیتی برادریوں کے ارکان سمیت تمام افراد کے حقوق کے تحفظ اور فروغ کی یاد دہانی کرائی ہے۔ دفتر خارجہ کے ترجمان نے کہا کہ جموں و کشمیر کے بعض حصوں پر بھارتی غیر قانونی قبضے کے 75 سال مکمل ہونے کی مذمت اور کشمیری عوام کی منصفانہ جدوجہد کے لیے پاکستان کی بھرپور حمایت کا اعادہ کرنے کے لیے گزشتہ روز یوم سیاہ منایا گیا۔ انہوں نے کہا کہ صدر مملکت، وزیراعظم اور وزیر خارجہ نے اس موقع پر اپنے خصوصی پیغامات میں پاکستان کے اصولی موقف اور کشمیریوں کی حمایت کے عزم کا اعادہ کیا اور عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے بھارت پر اپنا بھرپور اثرورسوخ استعمال کرے، مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی بڑے پیمانے پر خلاف ورزیاں بند کی جائیں اور کشمیریوں کے خلاف جابرانہ اقدامات بند کیے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ بیرون ملک پاکستانی مشنز نے بھی جموں و کشمیر کے تنازعہ کے بارے میں عالمی سطح پر بیداری پیدا کرنے اور کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کا اعادہ کرنے کے لیے متعدد سرگرمیوں کا اہتمام کیا۔ ترجمان نے کہا کہ سیکرٹری خارجہ نے او آئی سی، پی فائیواور یورپی ممالک کے سفیروں کو مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی سنگین صورتحال کے ساتھ ساتھ مقبوضہ کشمیر میں آبادیاتی تبدیلیاں لانے اور کشمیریوں کو ان کے ناقابل تنسیخ حق خودارادیت سے محروم کرنے کے لیے بھارت کے مذموم عزائم سے آگاہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے صدر، سلامتی کونسل کے صدر، اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل، ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق اور او آئی سی کے سیکرٹری جنرل کو خطوط ارسال کئے ہیں تاکہ انہیں مقبوضہ کشمیر کی سنگین صورتحال سے آگاہ کیا جا سکے۔ ترجمان نے کہا کہ بھارت سات دہائیوں سے زیادہ عرصے سے مقبوضہ کشمیر کے عوام کو حق خود ارادیت دینے سے مسلسل انکار کررہا ہے۔
شہباز شریف اپنے ساتھ بلاول بھٹو کو چین کیوں لے جارہے ہیں؟
القمر
