وزارت خزانہ ملک کی ماہانا معاشی اور اقتصادی رپورٹ جاری کردی ہے۔
سیلاب کی وجہ سے زراعت تباہ ہوچکی ہے وزارت خزانہ
گنے کی پیداوار میں 8 فیصد کمی ہوئی ہے وزارت خزانہ
چاول کی پیداوار 40.6 فیصد کم ہوئی وزارت خزانہ
کپاس کی پیداوار 24.6 فیصد کم ہوئی وزارت خزانہ
گندم کا پیداواری ہدف 28.37 ملین ٹن مقرر کیا گیا ہے وزارت خزانہ
جولائی سے ستمبر تک مہنگائی 25.1 فیصد رہی وزارت خزانہ
گذشتہ برس اسی عرصے میں مہنگائی 8.6 فیصد تھی وزارت خزانہ
عالمی مارکیٹ میں اکتوبر میں تیل کی قیمت کم ہوئی ہے وزارت خزانہ
ستمبر کے مقابلہ اکتوبر میں مہنگائی میں کمی کا امکان ہے، وزارت خزانہ
مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں بجٹ خسارہ 45 اعشاریہ 4 فیصد اضافہ ہوا وزارت خزانہ
جولائی سے ستمبر تک بجٹ خسارہ 672 ارب روپے رہا، رپورٹ
گذشتہ برس اسی عرصے میں بجٹ خسارہ 462 ارب روپے تھی وزارت خزانہ
جولائی تا ستمبر ترسیلات زر 3 اعشاریہ 6 فیصد کمی ہوئی ہے وزارت خزانہ
جولائی تا ستمبر مجموعی سرمایہ کاری 83 اعشاریہ 7 فیصد کم ہوئی ہے وزارت خزانہ
جولائی تا ستمبر برآمدات 5 اعشاریہ 5 فیصد اضافہ ہوا ہے وزارت خزانہ
جولائی تا ستمبر درآمدات 7 اعشاریہ 9 فیصد کم ہوئیں وزارت خزانہ
جولائی تا ستمبر کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ 2 ارب 20 کروڑ ڈالر رہا، رپورٹ
مالی سال کی پہلی سہ ماہی میں ایف بی آر کے محصولات میں 17 فیصد ہوا
26 اکتوبر 2022 تک اسٹیٹ بینک کے ذخائر 8 ارب 88 کروڑ 40 لاکھ ڈالر رہے، رپورٹ
26 اکتوبر 2022 تک ڈالر کی قدر 120 روپے 68 پیسے ریکارڈ کی گئی، رپورٹ
مجموعی معاشی صورتحال بہتر نظر آرہی ہے وزارت خزانہ
مستحکم کرنسی کے لیے معیشت مضبوط ہونا ضروری ہے وزارت خزانہ
