جنوبی کوریا کے دارالحکومت سیول میں کل رات ہالووین تہوار کی تقریبات کے دوران اژدہام کے نتیجے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 153 ہو گئی ہے۔
جنوبی کوریا کی خبر رساں ایجنسی یونہاپ کے مطابق سیول کے تفریحی مقامات میں سے اِٹائیون کے علاقے میں ہالوین تقریبات کے دوران اژدہام کے نتیجے میں 153 افراد ہلاک اور 82 زخمی ہو گئے ہیں۔ زخمیوں میں سے 19 کی حالت نازک ہے۔
قومی محکمہ فائربریگیڈ کے حکام میں سے چوئی چیون۔سِک نے خیال ظاہر کیا ہے کہ اژدہام تفریحی مقام کے اطراف کی تنگ گلیوں میں، عقبی ہجوم کے اگلے ہجوم کو دھکیلنے کے نتیجے میں پیش آیا ہے۔
چوئی نے کہا ہے کہ 800 سے زائد ہنگامی حالات اہلکاروں اور 140 کے لگ بھگ ہنگامی حالات گاڑیوں کو جائے وقوعہ کی طرف روانہ کر دیا گیا ہے۔
قومی ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی بعض خبروں میں معروف شخصیت کا نام پوشیدہ رکھتے ہوئے کہا گیا ہے کہ اِٹائیون کے تفریحی مقام پر اژدہام، وہاں کسی معروف شخصیت کی آمد کی افواہ پھیلنے اور لوگوں کے جوق در جوق اس تفریحی مقام کا رُخ کرنے پر برپا ہوا ہے۔
پولیس نے اموات میں اضافے کا خطرہ ظاہر کیا اور کہا ہے کہ ہلاک ہونے والوں کی شناخت کی اور ان کے کنبوں تک رسائی کی کوششیں جاری ہیں۔
صدر یون سُک ییول نے واقعے کے بعد منعقدہ ایمرجنسی اجلاس میں کہا ہے کہ ابتدائی طبّی امداد کے اہلکاروں کو علاقے کی طرف روانہ کر دیا گیا اور زخمیوں کے علاج کے لئے احکامات جاری کر دئیے گئے ہیں۔
یون نے ملک میں قومی سوگ کا اعلان کیا اور واقعے کی تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
اس دوران امریکہ کے صدر جو بائڈن نے سیول میں اژدہام کی وجہ سے ہلاکتوں پر جنوبی کوریا کے عوام سے اظہار تعزیت کیا ہے۔
