English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

پاکستان میں حلال مارکیٹ نہیں ہے؟

القمر

تحریر: محمد امنان

پاکستان ایک اسلامی مملکت کے کلمہ کی بنیاد پر اس ملک کو حاصل کیا گیا اور اسکی اساس اور بنیادوں میں بھی اسلام ہی اسلام ہے بس نہیں ہے تو یہاں عملی طور پہ اسلام نہیں ہے اسکی وجہ یہ کہ دنیا پرستی آجکل شعار میں شامل ہے دین کیا کہتا ہے کیا احکامات ہیں یہ سب سبق ہم نے محافل اور خطبوں کے لئے رکھ چھوڑے ہیں

یہاں خالص چیز ڈھونڈنے کیلئے آپکو سخت دوڑ دھوپ کرنا پڑے گی اگر آپ کاروبار کرتے ہیں تو دو نمبری کے ہزار طریقوں سے آپکا کاروبار چند دنوں میں چل نکلے گا خالص دودھ اور گھی کیلئے جس ملک میں دیہاتوں کا رخ کرنا پڑتا ہے اور حلال تازہ گوشت کیلئے جہاں تگ و دو کرنا پڑے اس ملک کا حال اور کیا بتائیں

اپنے اردگرد دیکھئے اور گنتی کر کے بتا دیجئے کہ کتنی دکانوں پہ آپکو پورے وزن کے ساتھ آپکی مطلوبہ شے دی جاتی ہے جہاں پھل سبزیوں کو بیچنے میں دو نمبری کا سہارا لیا جاتا ہو ہر کھانے والی شے میں ملاوٹ ہو وہاں حلال اشیاء حاصل کرنا کوئلے کی کان میں ہیرا تلاشنے کے مترادف ہے

خبر یہ ہے کہ قائمہ کمیٹی برائے سائنس و ٹیکنالوجی نے اجلاس میں حلال اتھارٹی کے قیام کی منظوری دیدی ہے بادی النظر میں یہ کام بھی دو نمبری کی نذر ہو جائیگا اس ملک میں جعلی ڈاکومنٹس حاصل کرنا کچھ مشکل نہیں اور تو اور آپ کسی بھی اچھی یونیورسٹی کی ڈگری بھی حاصل کر سکتے ہیں کاغذات حاصل کرنا بالکل مشکل نہیں ہے شرط یہ ہے کہ آپکو دو نمبر راستہ اور بندہ معلوم ہو اور آپکے پاس مطلوبہ رقم موجود ہو سب ہو جاتا ہے یہاں

حلال اتھارٹی کے قیام کی اصل وجہ یہ ہے کہ ہمارے دوست اسلامی ممالک کو ہی ہم پہ اعتبار نہیں ہے 108 ارب امریکی ڈالرز کی فوڈ مارکیٹ ہے ہمارا ملک لیکن سعودی عرب اور ملائشیا جیسے قریبی برادر ملک ہم سے گوشت خریدنے میں کتراتے ہیں

لاہور میں بلیاں گدھے اور ناجانے کیا کچھ کاٹ کے حلال گوشت کے نام پہ عوام کو کھلا دیا گیا بجائے تحقیقات کے ہم نے معاملے کو دبا دیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ یہ کوئی ہفتہ پیچھے لاہور کے کولڈ سٹوریج سے 7 ہزار کلو گوشت جو کہ ڈیڑھ دو سال پرانا تھا برآمد کیا گیا

اب حلال اتھارٹی کا لائسینس اور فیس 1 ہزار ڈالر مقرر کی گئی ہے جبکہ 2 سال کا لائسینس 15 ہزار ڈالر میں ملے گا اور لوگو کے اجراء کی فیس ہو گی 5 ہزار روپے۔۔ سمجھ سے بالاتر ہے کہ جس کام کو سالوں پہلے ہو جانا چاہیے تھا وہ حکومت کو اب ہی کیوں یاد آیا خیر حلال اتھارٹی بن جائیگی تو کم از کم ایک چیز تو واضح ہو جائیگی کہ اس ملک میں حلال کے نام پہ پہلے عوام کو کیا کچھ کھلایا جاتا رہا ہے

دوست ممالک ہم پہ اعتبار نہیں کرتے اسکی ذمہ داری عوام پر بھی عائد ہوتی ہے کیونکہ ہم اجتماعی طور پر شارٹ کٹ کے عادی ہیں مغربی ممالک یا دیگر ممالک کی مثالیں ہم ضرور دیتے ہیں مگر کام ہم وہ کریں گے جس میں کم محنت میں منافع زیادہ ہو چاہے وہ کام غیر قانونی غیر اخلاقی اور غیر اسلامی ہی کیوں نہ ہو ہم زبان سے کلمے کا اقرار کرتے ہیں بس
عملی طور پر ہم ملسمان ہیں بھی یا نہیں کون کچھ بتا سکتا ہے

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے