کراچی :امیر جماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن کا کہنا ہے کہ مچھر کالونی میں ہونے والے واقعے کی مذمت کرتا ہوں اس طرح کے واقعات کسی بھی سطح پر قبول نہیں ہے، بچے اغواء ہورہے ہیں پولیس اسلام آباد جارہی ہے ،عوام کو حق نہیں ہے کہ قانون ہاتھ میں لے،عوام کا پولیس پر اعتبار ختم ہوچکا ہے۔
الیکشن کے التوا ہو نے کے حوالے سے دفتر جماعت اسلامی ادارہ نورحق کراچی میں میڈیا کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئےانہوں نے کہا کہ سندھ پولیس کراچی میں بلدیاتی الیکشن کی سیکیورٹی کے لیے نہیں لیکن اسلام آباد لانگ مارچ کو روکنے کےلیے کراچی سے پولیس بھیج سکتے ہیں، بلاول بھٹو ناظم آباد میں پولیس نہیں لگا سکتے لیکن سندھ پولیس کے 6 ہزار اہلکار اسلام آباد بھیج سکتے ہیں ۔
ان کا کہنا تھا کہ تمام تر سیاسی جماعتوں کا ایجنڈا صرف بلدیاتی الیکشن ملتوی کرانا ہے ،تین مرتبہ الیکشن ملتوی کئے گئے،اس سے واضح ہے کہ الیکشن کمیشن سندھ حکومت سے ملا ہوا ہے، کراچی میں بلدیاتی الیکشن کی تاریخ دینی ہے ،بلدیاتی انتحابات نہ ہونے کے نتیجےمیں کرپشن ہورہی ہے، بلدیاتی انتحابات کےلئے دھرنا بھی دے سکتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کراچی کے فنڈز کرپشن کے نظر ہورہے ہیں ناکارہ میٹریل استمعال کرکے وقتی طور کےلئے سڑکیں بنائی جارہیں ہیں ۔کراچی پاکستان کو چلانے والا شہر ہے۔کراچی کےلئے کوئی مخلص نہیں ہے۔
پیپلز پارٹی جمہوریت دشمن پارٹی ہے،لسانیت کو فروغ دینے والی پارٹی پیپلز پارٹی ہے،15 سال میں سندھ حکومت بتائے کراچی کو کون سا ایک منصوبہ دیا ہے ، پیپلز پارٹی کوئی پراجیکٹ بتائے جو کراچی کو دیا ہو،ادھورے بس سروسز چلائے گئے شہریوں کو لوٹا جارہا ہے، ریڈلائن بس کے بھی حقائق جلد عوام کے سامنے لیکرآئیں گے ریڈ لائن بس کراچی کے شہریوں کےلئے کتنا مفید ثابت ہورہا ہے اس پر جماعت اسلامی کام کررہی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کراچی کو مئیر کی ضرورت ہے،مرتضی وہاب صاحب نے مئیر کے اختیارات کے حوالے سے جو بات کی ہے پبلک کی جائے،ایک ہفتے بعد عوامی رابطہ مہم شروع کرینگے، میئرکراچی کوکیا اختیارات ہوں گے یہ سندھ حکومت بتائےبلدیاتی میئرسے متعلق ترمیمی بل کی تفصیلات عوام کے سامنے آنی چاہیے،بلدیاتی انتخابات کےلیے ہراحتجاج کا حق رکھتے ہیں وزیراعلی ہاوس،سندھ اسمبلی کا گھیراؤ بھی کرسکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ الیکشن کمیشن اپنی ذمہ داریاں پوری نہیں کررہا،پنجاب پولیس سمیت ایف سی کو بلا کر بھی الیکشن ہوسکتے ہیں،آئین و دستور کو اس وقت نہیں مانا جارہا ،کے ایم سی کے ریٹائرڈ ملازمین رورہے ہیں،کچھ ارب کےلئے کے الیکٹرک سے مل کر شہریوں کو لوٹنے کی کوشش کی گئی۔
ان کا کہنا تھا کہ گزشتہ دنوں مچھر کالونی میں ایک خوف ناک واقعہ ہوا ہے اس واقعے کی پوری انکوائری ہونی چاہے۔مچھر کالونی میں لوگوں کو پکڑ کر 30 ہزار روپے کے عوض چھوڑا جارہا ہے،رینجرز کہتی ہے کہ ہمارے پاس اختیار نہیں ہے،کراچی کے جوانوں کو نوکریاں نہیں دی جارہی ہے،پولیس کی سرپرستی میں نشہ آور چیزیں بیچی جارہی ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ آئی ٹی کا وزیر کراچی سے ہے اس نے نوجوانوں کےلئے کچھ نہیں کیا،ہر فرد چاہتا ہے کہ کراچی میں انتحابات ہو،الیکشن نہ ہونا زرداری ڈاکٹرائن کا مسئلہ ہے۔کراچی کے مقامی رہائشیوں کو ہی پولیس میں بھرتی کیا جائے۔
ان کا کہنا تھا کہ ماس ٹرانزٹ منصوبہ نعمت اللہ خان نے دیا تھا ،یونیورسٹی روڈ کو ریڈلائن میں تبدیل کرنے کا منصوبہ بنایاجارہاہےکراچی کو مضبوط بلدیاتی نظام کی ضرورت ہے۔
صحافی صدف نعیم کے قتل کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ صدف نعیم کو اللہ پاک جوارحمت میں اعلی مقام عطا فرمائیں،ہم کسی پر الزام نہیں لگاتے یہ ایک حادثہ ہے،اگر کوئی اس واقعے میں ملوث ہے تو انکوائری ہونی چاہے۔
ان کا کہنا تھا کہ اب تو موسم بھی ٹھنڈا ہے لیکن پھر بھی لوڈشیڈنگ کی جارہی ہے،کے الیکٹرک کو کوئی بھی لگام ڈالنے والا نہیں ہے۔
