ایران نے "ملک میں تشدد کو شہہ دینے اور اندرونی معاملات میں مداخلت” کی بنیاد پر 10 امریکی افراد اور سینیئر سویلین اور فوجی حکام سمیت 4 اداروں پر پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ کی طرف سے ایک تحریری بیان میں کہا گیا ہے کہ پابندی کا فیصلہ ایرانی پارلیمنٹ میں2017 میں "امریکہ کے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کا مقابلہ کرنے اور خطے میں مہم جوئی اور دہشت گردی کے اقدامات کے خلاف جہدوجہد ” قانون کے تحت کیا گیا ہے۔
بتایا گیا ہے کہ "انسانی حقوق کے خلاف کام کرنے، ایران کے اندرونی معاملات میں مداخلت، ایران میں تشدد اور دہشت گردی کی کارروائیوں کو اکسانے” کا الزام عائد کیے جانے والے امریکی شہری اور ادارے ان پابندیوں کی فہرست میں شامل ہیں ۔
اس دائرہ عمل میں امریکی سینٹرل کمانڈ (CENTCOM) کے کمانڈر مائیکل کریلا،سینٹ کوم کے ڈپٹی کمانڈر گریگوری گیلوٹ، امریکی نائب وزیر خزانہ ویلی اڈیمو جیسے اعلی سطحی شخصیات سمیت سی آئی اےکی نائنتھ ایئر فورس اور نیشنل گارڈ ز پر پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔
بیان میں کہا گیا کہ مذکورہ پابندیوں میں ویزے کے اجرا پر پابندی، ایران میں ان کی جائیداد اور مالیاتی اثاثوں کو ضبط کرنا اور بینک اکاؤنٹس کو منجمد کرنا شامل ہیں۔
