دباؤ میں کون ۔۔؟؟ حکومت یا پی ٹی آئی، کس کے آگے کنواں اور پیچھے کھائی۔۔!!
نومبر 3, 2022
القمر
اسلام آباد (انتظار حیدری) عمران خان کے لانگ مارچ کو روکنے کے لیے پنجاب میں گورنر راج کا آپشن ضرور ہے مگر ہمیں ضرورت ہی نہیں کہ اس کو استعمال کریں، وفاقی حکومت خوش فہمی کا شکار ہے، البتہ اہم ترین میٹنگز میں عمران خان کا لانگ مارچ ہی زیر بحث ہے، وزیراعظم کے معاون خصوصی فیصل کریم خان کنڈی کہتے ہیں کہ خان مارچ کرکے پھنس گیا ہے ، اس وقت دباؤ میں حکومت نہیں خود پی ٹی آئی ہے؟ جس کے کنواں پیچھے ہے کھائی، اسے اب خود سمجھ نہیں آرہی کہ کیا کروں، جو لوگ ساتھ ہیں کیا وہ اس کے ساتھ رہیں گے؟ جلد اس کا نظارہ آپ بھی دیکھیں گے ہم بھی دیکھیں گے، مناسب موقع آنے دیں گرفتار بھی کرلیں گے، مگر اس کا فیصلہ مشاورت سے ہی ہوگا۔ بیانیہ کے مقابلے میں بیانیہ نہ بننے پر خود حکومت لاجواب، بس اتنا کہا کہ جھوٹ کا جواب ہی دیا جاسکتا ہے اس کے مقابلے میں جھوٹ نہیں گھڑا جاسکتا، عمران خان کے لانگ مارچ میں اتنی سکت ہی نہیں کہ وہ وفاقی دارالحکومت کی حدود میں داخل ہوپائے، یہ پہلے کی طرح دیواریں پھلانگ کر بھاگ جائیگا، واضح کردیں اگر وہ شرپسندی کے نظریے سے آیا تو اسلام آباد میں داخل نہیں ہونے دیں گے، مذاکرات ہماری نہیں اب پی ٹی آئی کی ضرورت ہے، اگر وہ مذاکرات کرنا چاہے تو ہماری کمیٹی با اختیار ہے، کیا آپ عمران خان کو جمہوری شخصیت سمجھتے ہیں؟
شفقنا نیوز سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم کے معاون خصوصی ،پیپلز پارٹی کے مرکزی ترجمان اور سابق ڈپٹی سپیکر قومی اسمبلی فیصل کریم خان کنڈی کا کہنا تھا کہ حکومت کی ترجیحات میں لانگ مارچ نہیں عوام کی خدمت خصوصاً سندھ سمیت پورے ملک کے سیلاب متاثرین ہیں، جس پر ان سے سوال کیا گیا کہ اگر ترجیحات یہ نہیں تو پھر اسلام آباد میں وفاقی حکومت کی طرف سے ہر طرف کنٹینرز لگا کر "میزبانی” کس کے لیے ہے؟ جس پر بولے یہ حفاظتی انتظامات ہر حکومت کو کرنا ہیں کیونکہ عوام کے جان و مال کے ہم ذمہ دار ہیں اور ان کا تحفظ ہر حال میں یقینی بنائیں گے، شفقنا نیوز نے سوال کیا کہ اگر آپ دباؤ میں نہیں تو پھر وفاقی حکومت دفاعی پوزیشن کیوں اختیار کئے ہوئے ہے، 11 جماعتی اتحاد میں پے در پے بیانات اور پریس کانفرنسز کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ ہے تو یہ سب کیوں؟ جس پر جوابا بولے کہ عمران خان کو جواب دینا ضروری ہے اگر ہم اس پر مکمل خاموشی اختیار کریں تو میڈیا والے لوگ ہمیں طعن و تشنیع کا نشانہ بنائیں گے کہ شائد حکومت دب گئی ہے- اسی پر ان سے ایک اور سوال شفقنا نیوز نے کیا کہ تو پھر آپ آج تک عمران خان کے کسی بیانیہ کا توڑ کیوں نہیں کرسکے؟ وہ امریکہ مخالف بیانیہ بنائے تو کامیاب، وہ سائفر سازش کا بیانیہ دے تو مقبول، وہ تمام سیاسی قائدین اور حکمرانوں کو کرپٹ قرار دے تو بھی آپ کے پاس کوئی توڑ نہیں، وجہ کیا ہے ؟ جس پر جواب دیتے ہوئے کہاکہ کیا جھوٹ کا جواب جھوٹ سے دیا جاسکتا ہے؟ جھوٹ کی کوئی بنیاد ہی نہیں ہوتی؟ وقت آنے پر اس بیانیہ کا بھی توڑ دیں گے فی الوقت ہماری توجہ معیشت کی بحالی، دنیا سے تعلقات بہتر بنانے اور سیلاب متاثرین کی بحالی کی جانب ہے-
فیصل کریم کنڈی کا مزید کہنا تھا کہ وہ کرپشن مخالف نعرے لگا رہا ہے جس کے اپنے والد اور چچا کو کرپشن پر نوکری سے نکالا گیا جسے توشہ خانہ ریفرنس میں کرپشن کی بنیاد پر ہی نااہل کیا گیا اس کی کیا حیثیت ہے؟ جب ان سے سوال کیا گیا کہ جب آپ خود ہی صبح و شام ان کو آئین شکن، قانون شکن، نااہل، اداروں پر بے جا حملوں اور بیرونی فنڈنگ کے الزام عائد کررہے ہیں تو گرفتار کیوں نہیں کرتے؟ کیا امر مانع ہے ؟ جس پر بولے فیصلہ عدالتوں نے کرنا ہے، وہ جیسے ہی فیصلہ کریں ہم ایک منٹ نہیں لگائیں گے، دوسرا معاملہ ہم ایک مخلوط حکومت ہیں تمام جماعتوں سے مشاورت ضروری ہے اس کے بعد فیصلہ کریں گے- انھعں نے کہا کہ عمران خان بھٹو صاحب کی بہت مثالیں دیتا ہے وہ ان کی طرح کسی بھی حوالے سے جرأت مند نہیں ہے، یہ ایک دن بھی جیل میں نہیں گزار سکے گا بھٹو صاحب تو عوامی حقوق کی جنگ لڑتے لڑتے شہید ہوگئے مگر اپنے نظریات پر کمپرومائز نہیں کیا اور یہ صبح و شام یوٹرن لیتا ہے، عمران خان پہلے بھی دیواریں پھلانگ کر بھاگ گیا تھا اب بھی وقت آیا تو یہ فرار ہوجائیگا، یہ کبھی بھی وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں داخل نہیں ہوپائیگا-
آرمی چیف کی تقرری اور اب تک حکومت کی جانب سے واضح فیصلہ نہ کیئے جانے پر سوال کیا گیا کہ کیا حکومت اس معاملے پر کسی دباؤ کا شکار ہے یا کوئی اور معاملہ ہے ؟ جس پر جواب دیا کہ آرمی چیف کی تقرری آئین و قانون کے مطابق وزیراعظم کی صوابدید ہے وہ چین کے دورے سے واپسی پر جن سے چاہیں گے مشاورت کرکے اس کا فیصلہ جلد کردیں گے اس معاملے پر کوئی ابہام نہیں مگر عمران خان نے اس معاملے کو بھی متنازعہ کرنے کی کوشش کی – جب ان سے سوال کیا گیا کہ کیا حکومت اور پی ٹی آئی میں تصادم سے بچنے کے لیے کوئی مذاکرات کا امکان ہے ؟ جس پر بولے اب تو عمران خان ٹیلی فون کالز کا انتظار کررہا ہے کہ کب مذاکرات کی کال آئے مگر حکومت اب اسے لفٹ نہیں کرائے گی جب تک وہ خود مذاکرات کے لئے آگے نہیں بڑھے گا کوئی مذاکرات نہیں ہونگے، کیا آپ عمران خان کو جمہوری شخصیت سمجھتے ہیں؟ یہ بیچارہ اب اپنی ہی انا کا ایسا اسیر ہوا کہ اب اس کے پاس کوئی آپشن نہیں بچا ایک طرف اس کو مطلوبہ لوگ نہیں ملے کہ اس کا لانگ مارچ کم از کم بنے جو مسلسل لوگوں کے انتظار میں لانگ مارچ کی بجائے اب فرلانگ مارچ پہ آگیا ہے اسی لئے مسلسل اپنی ناکامی کو چھپانے کے لئے دورانیہ بڑھا رہا ہے، وہ سمجھتا کہ اسے کوئی فیس سیونگ ملے گی تو ایسا اب نہیں ہوگا، ہم الیکشن کے حامی ہیں مگر وہ اپنے مقررہ وقت پر ہونگے، تکنیکی بنیادوں پر مردم شماری کے بغیر الیکشن نہیں ہوسکتے سندھ کو اس معاملے پر شدید تحفظات ہیں جنہیں دور کرنا ضروری ہے کیا سندھ کے علاوہ دیگر صوبوں میں عام انتخابات ہوسکتے ہیں ؟ تو اس کا جواب نا میں ہے- عمران خان خود ہم سے مذاکرات کرنا چاہے تو مذاکراتی کمیٹی وزیراعظم نے قائم کردی ہے اس کے سوا عمران کے پاس اب کوئی چارہ نہیں-