امریکہ نے، اناج راہداری کو بحال رکھنے کے لئے صَرف کردہ کوششوں پر، ترکیہ کا شکریہ ادا کیا ہے۔
امریکہ وزارت خارجہ کے ترجمان نیڈ پرائس نے معمول کی پریس کانفرنس سے خطاب میں سوالات کے جواب دئیے۔
انہوں نے کہا ہے کہ روس کی، یوکرینی اناج کی برآمد سے متعلق، اقوام متحدہ بحیرہ اسود اناج سمجھوتے کی طرف واپسی ہمارے لئے باعثِ مسرت ہے۔ ہم، سمجھوتے کو بحال رکھنے کے لئے ادا کردہ کردار پر ترکیہ کے شکر گزار ہیں۔
پرائس نے کہا ہے کہ ‘اناج راہداری سمجھوتہ’ دنیا کے لئے ناگزیر اہمیت رکھتا ہے۔ ہم، اس سمجھوتے کی طفیل اس وقت تک یوکرین سے 10 ملین میٹرک ٹن اناج نکال چُکے ہیں۔
انہوں نے اناج کی ترسیل کے دوبارہ آغاز کے لئے ترکیہ کی کوششوں کی طرف توجہ مبذول کروائی اور ایک سوال کے جواب میں کہا ہے کہ "ہم اپنے ترک اتحادیوں کی کوششوں کو تہہ دِل سے سراہتے ہیں۔ ہم نے ترکیہ اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو اپنے جذبہ احسان مندی سے آگاہ کیا ہے”۔
نیڈ پرائس نے کہا ہے کہ یہ سمجھوتہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گٹرس نے تیار کیا لیکن سمجھوتے کو عملی شکل ترکی کی طرف سے سنجیدہ سطح کے تعاون اور بعد ازاں یوکرین اور روس کے اتفاق سے مِلی۔ اس سمجھوتے کو دوبارہ پٹڑی پر چڑھانے کی وجہ سے ہم سیکرٹری جنرل انتونیو گٹرس اور ترکیہ کے شکر گزار اور ممنونِ احسان ہیں۔
