مستونگ: امیر جماعت اسلامی سراج الحق نے کہا ہے کہ اقتدار کے حصول کے لئے 75 برسوں سے چہرے بدلتے رہے لیکن نظام نہ بدل سکا؟۔
سراج الحق کا کہنا تھا کہ پی ڈی ایم اور پی ٹی آئی ایک ہی سکے کی دو رخ ہے، دونوں کی پالیسیوں میں رتی برابر بھی فرق نہیں ہے، سب ایک ہی نظام کے دلدادہ ہیں۔ ملکی معیشت تبائی کے دہانے پر پہنچ چکی ہے اشیائے خوردونوش کی قیمتیں عام آدمی کی پہنچ سے دور ہے، ملک میں سوائے موت کے ہر چیز مہنگی ہو چکی ہے سیاسی، معاشی، سماجی عدم استحکام کے خاتمہ کے لئے قومی ڈائیلاگ ضروری ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ بلوچستان قدرتی وسائل سے مالا مال ہے، مگر یہاں کے لوگ روزگار کیلئے باہر جانے پر مجبور ہے بلوچستان کے لوگوں کو اپنے حقوق کے حصول کے لیے ظالم وجابر سرداروں اور نام نہاد سیاست دانوں کا محاسبہ کرنا ہوگا۔جنھوں نے بلوچستان کو پسماندہ رکھا ہے ان خیالات کا اظہار انہوں نے جماعت اسلامی مستونگ کے زیر اہتمام چکل ہارون میں منعقدہ رحمت اللعالمین کانفرنس کے عظیم الشان جلسہ سے خطاب کرتے ہوئے کیااس موقع پر کانفرنس سے مولاناجمشید، صوبائی امیر مولانا عبدالحق ہاشمی صوبائی نائب امیر مولانا عبد الکبیر شاکر،مستونگ کے مولانا خلیل الرحمن شاہوانی صوبائی ڈپٹی جنرل سیکریٹری حافظ خالد الرحمن شاہوانی، ضلع کوئٹہ کے امیر نورعلی، نوشکی کے امیر حافظ اسماعیل مینگل مولانا عبدالواسع قلندرانی، انجینئر جمیل کرد، مطیع اللہ مینگل و دیگر نے بھی خطاب کیا۔
امیر جماعت اسلامی پاکستان سراج الحق اور دیگر مقررین نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں شور شرابا ہے حکمرانوں کے درمیان لڑائی ہے پی ڈی ایم اور پی ٹی آئی کی لڑائی مارشل لاء کا راستہ ہموار کررہاہے حکمرانوں نے آئین و قانون کی بالادستی و جمہوریت کے تسلسل کیلئے بیٹھ کر مسئلہ حل نہیں کیا تو مارشلا لگ جائے گا ملک میں مارشل لاء لگنے سے یہ سب جیلوں میں ہونگے ملک و عوام کی ترقی میں کرپشن زدہ سیاست دان رکاوٹ ہے کرپشن زدہ سیاست دان نہیں ہے بلکہ یہ جائیداد بنانے والے لوگ اس ملک پر 75 سالوں سے انگریز کا قانون رائج ہے ملک میں امریکہ، یہودی، مخلوط نظام تعلیم، عریانی کا نظام مسلط ہیاس نظام کا خاتمہ امام سمیت ضروری ہیں ٗ بدلنا ہمارے عدالتون میں امیر اور غریب کیلئے الگ الگ قانون ہے عدالتیں مخصوص لوگوں کیلئے ادھی رات کو کھلتے ہے، عام لوگوں کیلئے نہیں عدالتون میں انصاف نہیں جماعت اسلامی ججز کے ہاتھ میں انگریز کی کتاب کے بجائے قرآن دیکھنا چاہتے ہے۔
