کراچی: اردو ادب کے ممتاز شاعر جون ایلیا کی بیسویں برسی 8نومبربروزمنگل کو منائی جائے گی۔ ملک بھر کے ادبی حلقوں میں تعزیتی سیمینارز،مذاکرے اور مختلف تقریبات کا اہتمام کیا جائے گا۔
فلاسفر اور سوانح نگارجون ایلیا کا اصل نام سید حسین جون اصغر تھا، وہ اپنے منفرد انداز تحریر کی وجہ سے جانے جاتے تھے وہ معروف شاعر،صحافی اور دانشور رئیس امروہوی اور سیّد محمد تقی کے بھائی تھے انہوں نے پچاس ہزار سے زائد اشعار کہے اور چالیس سے زائد نایاب کتب کے تراجم کیے ان کا علم ایک انسائیکلو پیڈیا کی مانند تھا۔پسے ہوئے طبقے کے ترجمان شاعرجون ایلیا14دسمبر 1937ء کو پیدا ہوئے ان کے والد محترم علامہ شفیق حسن ایلیا ادب سے گہرا لگائو رکھتے تھے۔ اس علمی ماحول میں جون ایلیا نے پرورش پائی جون ایلیانے اپنا پہلا اردو شعر محض 8برس کی عمر میں کہا۔ان کی معروف تصانیف میں شاید ، گویا، یعنی، گمان، لیکن اور دیگر قابل ذکر ہیں۔جون ایلیا کواردو، انگریزی،عربی،فارسی،سنسکرت،عبرانی اور دیگر زبانوں پر دسترس حاصل تھی۔
جون ایلیانے شاعری کے علاوہ فلسفہ،منطق،اسلامی تاریخ،سائنس اور مغربی ادب کے تراجم پر بھی وسیع کام کیا ہے انہوں نے دنیا کی40 کے قریب نایاب کتب کے تراجم کیے انہوں پچاس ہزار سے زائد شہر کہے جن میں زیادہ تر منظر عام پر نہ آسکے ہیں۔ جون ایلیا کا علم کسی انسائیکلو پیڈیا کی طرح وسیع تھااس علم کا نچوڑ ان کی شاعری سے بھی عیاں ہے۔ جون ایلیا 8نومبر 2002ء کو 72برس کی عمر میں طویل علالت کے بعد انتقال کر گئےاور کراچی کے سخی حسن قبرستان میں سپردخاک کیاگیا۔
