سابق وزیر اعظم عمران خان نے روبہ صحت ہوتے ہی احتجاجی مظاہروں کو شروع کرنے کا عندیہ دیا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین اور سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا ہے کہ پہلے پتا تھا وزیر آباد یا گجرات میں مجھے مارنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔مجھ پر سلمان تاثیر کی طرح قتل کروانے کا منصوبہ بنایا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ مجھے علم ہوا ہے کہ وزیر اعظم شہباز شریف، وزیر داخلہ رانا ثناء اللہ اور آئی ایس آئی کے نائب صدر بریگیڈیئر جنرل فیصل ناصر کی منصوبہ بندی کے تحت مجھ پر حملہ کیا گیا ۔جب تک یہ 3 لوگ مستعفی نہیں ہوں گے تب تک احتجاج جاری رہے گا ۔ یہ لوگ اسلام آباد میں ایک عظیم اجتماع لگنے سے خوفزدہ ہو گئے تھے۔
پاکستانی فوج کی جانب سے دیے گئے ایک بیان میں عمران خان کے ادارے کے خلاف بیانات کو ’غیر ذمہ دارانہ الزامات‘ قرار دیتے ہوئے ان کی شدید مذمت کی گئی۔
بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ سینئر افسران کے بارے میں بیانات ناقابل قبول ہیں، کسی کو بھی فوج یا اس کے کارکنان کی بے عزتی کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ حکومت سے کہا گیا ہے کہ وہ عمران خان کے خلاف قانونی کارروائی کرے، جنہوں نے فوج کے خلاف "جھوٹے الزامات” لگائے ہیں۔
