یوکرین کے صدر ولودیمیر زیلنسکی نے گزشتہ روز کہا کہ ایران روس کو محدود تعداد میں ڈرون بھیجنے کے بارے میں جھوٹ بول رہا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ یوکرینی فوج روزانہ ان میں سے کم از کم 10 طیاروں کو مار گراتی ہیں۔
دوسری طرف ایران کے لیے امریکی ایلچی رابرٹ میلے نے بھی گزشتہ روز تصدیق کی ہے کہ تہران نے صرف اس موسم گرما میں درجنوں ڈرونز روس کو بھیجے ہیں ،اس بات کا ذکر کرتے ہوئے کہ ایرانی وزیر خارجہ حسین امیر عبداللہیان نے جنگ سے پہلے ان کی محدود تعداد بھیجنے کے بارے میں جو کہا تھا وہ سچ نہیں ہے۔
میلے نے ٹویٹر پر کہا کہ یوکرین کے روس کے زیر کنٹرول علاقوں میں ایران کے فوجی اہلکار بھی موجود ہیں اور وہ یوکرینی شہریوں کو نشانہ بنانے کیلئے ان طیاروں کو استعمال کرنے میں ماسکو کی مدد کر رہے ہیں۔
میلے نے کہا کہ ان دلائل کو رد کرنے کیلئے ایران کو ایک نئی حکمت عملی کی ضرورت ہے، نئی کہانی گڑھنے کی نہیں۔
ایران نے گزشتہ روز پہلی بار اعتراف کیا کہ اس نے روس کو ڈرون بھیجے ہیں، لیکن اس بات پر زور دیا کہ اس نے اپنے اتحادی کو ڈرونز کی فراہمی یوکرین میں روسی آپریشن سے پہلے کی تھی۔
فروری میں ایران نے کئیف کے ان الزامات کی تصدیق کی تھی کہ ماسکو نے شہریوں اور بنیادی ڈھانچے کے خلاف حملوں کے لیے ایرانی ساختہ ڈرون استعمال کیے تھے۔
وکرین کی وزارت خارجہ کے ترجمان اولیگ نکولینکو نے فیس بک پر لکھا کہ "تہران کو یہ سمجھ لینا چاہیے کہ یوکرین کے خلاف روسی فیڈریشن کی جارحیت کے جرائم میں ملوث ہونے کے نتائج روسی حمایت سے حاصل ہونے والے فوائد سے کہیں زیادہ ہوں گے۔”
کیف نے کہا کہ تقریباً 400 ایرانی ڈرون پہلے ہی یوکرین میں شہریوں کے خلاف استعمال ہو چکے ہیں اور ماسکو نے تقریباً 2000 اضافی ڈرونز کا آرڈر دیا ہے۔
ماسکو کو ڈرون کی فراہمی کے بارے میں تہران کے اعترافات یوکرین جنگ میں روس اور ایران کے درمیان تعلقات کی نشاندہی کر رہے ہیں ۔ یوکرین کو امریکہ اور یورپی یونین کی حمایت حاصل ہے۔ چین براہ راست کسی بھی فریق کا ساتھ دینے سے انکار کرتا ہے۔
دریں اثنا، تہران نے ایک بار پھر اس بات کی تردید کی کہ اس نے روس کو میزائل فراہم کیے ہیں اور کہا کہ یہ الزامات "مکمل طور پر جھوٹے” ہیں۔
واضح رپے کہ واشنگٹن پوسٹ نے 16 اکتوبر کو خبر دی تھی کہ ایران روس کو میزائل بھیجنے کی تیاری کر رہا ہے
