ایران میں مہسا امینی کی حراست میں ہلاکت کے بعد شروع ہونے والے مظاہروں میں سیکیورٹی فورسز کی مداخلت کے نتیجے میں جان سے ہاتھ دھونے والے افراد کی تعداد 304 ہوگئی ہے۔
ناروے میں قائم ایرانی انسانی حقوق کے ادارے (IHR) کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والی رپورٹ میں ایران میں 50 روز سے زاہد جاری مظاہروں کے بارے میں معلومات فراہم کی گئی ہیں۔
رپورٹ میں 31 میں سے 22 صوبوں کے اعداد و شمار پیش کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ سب سے زیادہ ہلاکتیں بالترتیب سیستان بلوچستان، مازندران، تہران، کردستان اور گیلان صوبوں میں ہوئی ہیں۔
رپورٹ میں صوبہ سیستان بلوچستان میں 118، مازندران میں 33، تہران میں 30، کردستان میں 26، گیلان میں 22، مغربی آذربائیجان میں 21، کرمانشاہ میں 13، البرز، خراسان میں 9 کل 304 افراد ان مظاہروں میں ہلاک ہوچکے ہیں۔
رپورٹ میں بتایا گیا کہ جان کی بازی ہارنے والے مظاہرین میں سے 41 کی عمریں 18 سال سے کم تھیں اوران میں 24 خواتین بھی شامل ہیں ۔
ایران کی ہیومن رائٹس ایکٹوسٹ ایجنسی (HRANA) کی خبر کے مطابق ایمنی کی موت کے بعد شروع ہونے والے مظاہروں میں 38 سیکیورٹی گارڈز اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔
13 ستمبر کو تہران میں "اخلاقی پولیس” کے نام سے جانے جانے والے ارشاد گشت کی حرست میں ہلاک ہونے والی 22 سالہ مہسا ایمنی کی موت کے بعد سے پورے ملک میں مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔
