صدر کے اطلاعاتی امور کے ڈائریکٹر فخر الدین آلتون نے کہا ہے کہ ” ہم عالمِ ترک کے طور پر، اتحاد کے جذبے کے ساتھ آذربائیجانی کاز کی آواز بنتے رہیں گے۔
فخرالدین آلتون نے ان خیالات کا اظہار دارالحکومت انقرہ میں صدارتی کمیونیکیشن ڈائریکٹوریٹ کانفرنس ہال میں منعقدہ "قارا باغ فتح کانفرنس: ایک قدیم وطن کی آزادی” پروگرام میں شرکت کے دوران خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس کانفرنس میں آذربائیجان کے صدر کے مشیر حکمت ہاسیوف نے بھی شرکت کی۔
اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے آلتون نے کہا کہ وہ قارا باغ کی فتح کی سالگرہ کے موقع پر اکٹھے ہونے اور کانفرنس کی میزبانی کرنے پر بہت اعزاز اور خوشی محسوس کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہم آج قارا باغ کی فتح کی دوسری سالگرہ ، عزت، شان و شوکت سے منا رہے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس فتح سے آذربائیجان کی آرمینیائی قبضے میں آنے والی زمینوں کو آزاد کرانے کے لیے جدوجہد آزادی کو تاریخ میں سنہری حروف سے لکھی گئی مبارک فتح کا تاج پہنایا گیاہے۔
انہوں نے کہا کہ ترکیہ نے دوسری قارا باغ جنگ میں آذربائیجان کو تنہا نہیں چھوڑا، آلتون نے اس بات پر زور دیا کہ صدر رجب طیب ایردوان اور آذربائیجان کے صدر الہام علی ایف کی قیادت میں وہ "دو ریاستیں، ایک قوم” کے نعرے کے ساتھ آپ کے شانہ بشانہ کھڑے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ قارا باغ کی فتح نے پوری ترک دنیا بالخصوص آذربائیجان اور ترکیہ کے بھائی چارے کے اثرات کو واضح طور محسوس کیا جا رہا ہے۔ آلتون نے کہا کہ قارا باغ کی فتح عوام اور عسکوری قوتو ہی کی بدول ممکن ہوا ہے۔
فخر الدین آلتون نے کہا کہ آذربائیجان کی 28 سالہ منصفانہ جدوجہد اور فتح کو دبانے کی کوشش کی جاتی رہی ہے اورقارا باغ کے لوگوں کے ساتھ ہونے والے مظالم کو نظر انداز کیا جاتا رہا ہے۔انہوں نے کہا کہ اگرچہ ہم نے قارا باغ میں فتح حاصل کی ہے، لیکن انفارمیشن اور معلومات کے تبادلے میں ہماری جدو جہد جاری رہے گی۔
انہوں نے کہا کہ عالمِ ترک کے طور پر ہم اتحاد کے جذبے کے ساتھ آذربائیجانی کاز کی آواز بنتے رہیں گے۔ ہم ڈس انفارمیشن اور الزامات کی سیاست اور آذربائیجان کی فتح کو نقصان پہنچانے کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے۔
