ٹیکسلا: جماعت اسلامی کے سینیٹر مشتاق احمد خان نے کہا ہے کہ پاکستان میں مسلط اشرافیہ یہ بے رحم اشرافیہ پاکستان میں مختلف اسکیموں کی مد میں سالانہ17.4 ارب ڈالرکی مراعات حاصل کر رہا ہےجو کہ پاکستان کا پچاس فیصد بجٹ ہے،ہمارے ملک کا غریب طبقہ اشرافیہ کو اپنے ٹیکسوں سے پال رہا ہے یہ ظلم کی انتہا ہے۔
سینیٹر مشتاق احمد خان نے کہا کہ ملک میں نہ سستا اورنہ ہی فوری انصاف عوام کو میسرہے،دستور پر کما حکا ہو عمل کرانے کے لئے تمام سیاستدانوں کو ایک پیج پر آنا ہوگا،جسکی زیادہ ذمہ داری حکمرانوں پر عائد ہوتی ہے، بڑے کارخانہ دار، بزنس مین، جاگیر دار قوم کا خزانہ ہڑپ کر رہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ اسلامی شناخت ہی دراصل روح ہے پاکستان کی اس کی حفاظت ہم سب پر فرض بھی ہے اور قرض بھی ہے،یہ لوگ نہ صرف مختلف پارٹیوں میں شامل ہیں بلکہ ملک کی بیورو کریسی میں بھی ان کا کلیدی کردار ہے،اسی اشرافیہ نے ملک کو غلام بنا یا ، ملک کو غریب اور مقروض بنانے میں بھی یہی لوگ پیش پیش ہیں،یہ ایک دوسرے کے محافظین ہیں،ایک طاقتور عوامی شعور اور طاقتور تحریک انکی زنجیروں اور ہتھکڑیوں کو کھول سکتا ہے۔
سنیٹر مشتاق احمد خان کا مزید کہنا تھا کہ ایک فیصد بالا دست طبقہ جو کہ مافیا کی صورت میں اس ملک پرمسلط ہے،جو کہ ہر قسم کے احتساب سے بالاتر ہے،اس ملک کو غلام بنانے والی بھی یہی اشرافیہ ہے ،پارلیمنٹ میں موجودہ قانون سازی بھی مغرب کو خوش کرنے کے لئے وہی طبقہ کر رہا ہے۔
انکا کہنا تھا کہ یہ تہذیب کی جنگ ہے ،اس تہذیبی جنگ میں ہمیں اسلام کے کیمپ میں ہونا چاہئے،اس عالمی تہذیبی جنگ میں ہمیں اپنا انفرادی اور اجتماعی کردار ادا کرنے کی ضرورت ہے۔
انکا کہنا تھا کہ ملک میں بالادست طبقے کا نظام قائم ہے، آئین کے آرٹیکل 35 کا تعلق ٹرانس جینڈر لا سے جڑتا ہے،دستور میں واضح ہے کہ پاکستان میں جتنی بھی قانون سازی ہوگی وہ اسلام کے مطابق ہوگی، کوئی بھی قانون سازی اسلام سے متصادم نہیں ہوسکتی، دستور پاکستان کی اسلامی شناخت ہمیں اپنی جان سے بھی زیادہ عزیز ہے،یہی اسلامی شناخت دراصل روح ہے پاکستان کی،جب یہ روح اللہ نہ کرے نکل گئی تو صرف جسد خاکی ہی باقی رہ جائے گا۔
