پنجاب کے دارلحکومت لاہور سے منسلک شہر قصور میں انسانیت لرز اٹھی۔ مرنےکے بعد انسانیت کی تذلیل کوئی نہیں کرسکتا لیکن قصور کی میونسپل کارپوریشن تمام حدیں پائمال کرکے انسانیت بھول گیا۔
میونسپل کارپوریشن کے اہلکار کوڑے والی ٹرالی میں لاوارث لے کر پھرتے رہے۔ نہ کوئی نماز جنازہ اور نہ ہی کوئی کندھو دینے والا اس لاش کو میسر کیا گیا۔ انسان جیسا بھی ہو مرنے کے بعد تو اس کی آخری رسومات ادا کی جاتی ہیں۔
قصور کی میونسپل کارپوریشن کا عملہ لاش بالکل کچرے کی طرح ٹرالی سے گھیسٹ کر نیچے گراتا ہے۔ قبر رو نہیں لیکن گڑھے تک گھسیٹ کے اس میں گرا دیتا ہے۔ لاش گھڑے میں پھینک کے اس پر مٹی ڈال دیتا ہے۔
اس واقعہ کی ویڈیو نے درد دل رکھنے والوں کو تڑپا دیا ہے اور لوگ یہی سوچ رہے ہیں کہ پاکستان کے معاشرہ کو کیا ہوگیا ہے جہاں انسانی قدروں کو کس بے دردی کے ساتھ پائمال کیا جارہا ہے۔ قصور کی انتظامیہ کو فوری طور پر اس واقعہ کے زمہ داروں کے خلاف کارروائی کرنی چاہیے۔
قصور میں میت کی تذلیل، کچرہ ٹرالی کے ذریعے لاش پھینکی گئی
القمر
