English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

چھوٹی چھوٹی چپقلشوں میں پڑے رہے تو ترقی ناممکن ہے، ڈاکٹرعارف علوی

القمر

لاہو: صدر مملکت ڈاکٹر عارف علوی نے کہا ہے کہ معاشی ترقی کیلئے ٹیکس نظام میں اصلاحات نا گزیر ہیں، ٹیکس چوری سے ملکی معیشت متاثر ہوتی ہے، ملک بڑی آزمائشوں میں ہے، چھوٹی چھوٹی چپقلشوں میں پڑے رہے تو ترقی نہیں کر سکیں گے۔

صدرمملکت کا کہنا تھاکہ ٹیکس ٹو جی ڈی پی کے حجم کے حساب سے ملک میں محصولات کی شرح صرف 9فیصد ہے،ٹیکس اکٹھا کرنے والے اداروں کو چاہئے کہ ٹیکس دہندگان کو زیادہ سے زیادہ سہولیات فراہم کریں اور ٹیکس نیٹ کے دائرہ کار کو بڑھانے کیلئے موثر اقدامات کریں۔ ملکی ترقی کے لئے ٹیکس دینا ضروری ہے، ٹیکس چوری سے ملکی معیشت متاثر ہوتی ہے،بدقسمتی سے پاکستان میں بہت کم شہری ٹیکس ادا کرتے ہیں،شرح نمو کے حساب سے ملک میں ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح کو بڑھانے کیلئے مربوط پالیسیاں تشکیل دینے کی ضرورت ہے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے گورنر ہائوس لاہور میں ٹیکس آگاہی کے حوالے سے منعقدہ سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس موقع پر گورنر پنجاب بلیغ الرحمان ،وفاقی ٹیکس محتسب ڈاکٹر آصف محمود جاہ،مختلف ایوان صنعت وتجارت کے صدورسمیت دیگر اہم شخصیات بھی موجود تھیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ملک میں تبدیلی لانی ہے تو ہر شہری کو ذمہ داری کا احساس کرتے ہوئے ٹیکس ادا کرنا ہو گا کیونکہ ترقی یافتہ ممالک میں ہر شہری ٹیکس دیتا ہے۔ ٹیکس کی رقوم ملک وقوم کی ترقی کے لیے خرچ ہونی چاہیے اور ٹیکس دہندگان کو زیادہ سے زیادہ ریلیف ملنا چاہئے۔ سرکاری امور میں تاخیر سے رشوت ستانی کو فروغ حاصل ہوتا ہے جس سے کرپشن بڑھتی ہے۔ بحیثیت قوم ملکی ترقی کے لیے ہمیں خوشی کے ساتھ ٹیکس نیٹ میں شامل ہونا چاہیے ،ٹیکس زیادہ لینے پر تو بحث کی جاسکتی ہے لیکن ٹیکس نیٹ میں شامل ہونے کے لیے کوئی بحث نہیں بنتی اور جو ٹیکس نہیں دیتا تو ریاست کو یہ حق حاصل ہے کہ اس کے خلاف قانونی کارروائی کرے ۔

صدرعارف علوی کا کہنا تھاکہ ٹیکس کا حصول کسی بھی ملک کی معاشی ترقی کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے،عوام سے ٹیکس کے حصول کے لیے ہمیں اعتماد کی فضا قائم کرنے کی ضرورت ہے اور اس سلسلہ میں وفاقی محتسب اور ایف بی آر مل کر عوام کا اعتماد حاصل کرنے اور کرپشن روکنے کے لیے اپنا کلیدی کردار ادا کریں۔ آج کے دور میں جدید ٹیکنالوجیز کا استعمال لازمی ہے۔ یہ حقیقت ہے مشکل ٹیکس کولیکشن سسٹم کے باعث لوگ ٹیکس جمع کرنے والے اداروں کے پاس جانے سے گریز کرتے ہیں اور وہ سمجھتے ہیں کہ اگر ہم ٹیکس نیٹ میں شامل ہو گئے تو ہمیں بلا وجہ پریشان کیا جا ئے گا اسی خوف کو دور کرنے کے لئے ٹیکس دہندگان کا اعتماد بحال کرنے کی اشد ضرورت ہے۔

ان کامزید کہنا تھا کہ زیادہ سے زیادہ ٹیکس جمع کرنے کے لئے اداروں میں بھی اصلاحات لانا ہوں گی۔ ترقی یافتہ ممالک میں قرضہ جات کے حصول ،ٹیکس نیٹ میں شامل ہونے اور ٹیکس کی ادائیگی کے لیے لوگوں کو دفتروں کے چکر نہیں لگانا پڑتے جس کی وجہ سے وہ بلا جھجھک ٹیکس اداکرتے ہیں،ہمیں بھی اس ماڈل کو اپنانا ہوگااور عوام کو اس بات کا یقین دلانا ہو گاکہ ان کا ٹیکس ملکی ترقی کے لیے خرچ ہو گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے