English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

وزیرِاعظم شہبازشریف کی پیشی اور یقین دہانی کے باوجود لاپتہ افراد پیش نہ ہوئے، اسلام آباد ہائیکورٹ برہم ایس ایچ او سبزی منڈی طلب

القمر

لاپتہ صحافی مُدثر نارو کی والدہ اور کم سِن بیٹا سچل ایک بار پھر اپنے والد سے ملنے کی اُمید کے ساتھ اسلام آباد ہائیکورٹ پہنچے۔ اِس کے علاوہ لاپتہ افراد کے لیے جدوجہد کرنے والی آمنہ مسعود جنجوعہ، لاپتہ صحافی مُدثر نارو کی وکیل ایڈوکیٹ ایمان مزاری، کرنل (ر) انعام الرحیم اور دو لاپتہ نوجوانوں کے وکیل والد ایڈوکیٹ مُشتاق بھی کورٹ روم نمبر ون میں موجود تھے۔ چھ کیسز کی سماعت کے بعد مُقدمہ کا نام پُکارا گیا تو سب روسٹرم پر پیش ہوگئے۔

پچھلی تاریخ پر وزیرِاعظم خود عدالت آئے اور یقین دہانی کروائی۔ وکیل مُدثر نارو، ایمان مزاری

وزیرِاعظم نے کمیٹی بنا دی۔ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل

ستمبر سے کمیٹی بنی ہوئی۔ ایک ماہ میں ہوا کیا؟ چیف جسٹس عامر

سر آٹھ میٹنگز ہوئی، سب اسٹیک ہولڈرز کو بُلایا، آمنہ مسعود جنجوعہ، بلوچ طلبہ کو بُلایا۔ اب باتیں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے سامنے رکھنا تھیں تو اعظم نذیر تارڑ نے استعفیٰ دے دیا۔ کیونکہ اعظم نذیر تارڑ کے نام سے کمیٹی بنی تھی تو اُنکے مُستعفی ہونے کے بعد کمیٹی ختم ہوگئی۔ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل

یہ وزیر کے نام سے کب سے ہونے ہوگا؟ وزارتِ قانون تو وہی ہے ناں۔ اب ایاز صادق ہیں وزیرِ قانون۔۔ یہ کب سے ہونے لگا؟ اب یہ کیس جسٹس اطہر من اللہ سُن رہے تھے لیکن وہ سُپریم کورٹ چلے گئے تو کیا یہ کیس بھی ختم ہوگیا؟ چیف جسٹس عامر فاروق

سرتھوڑا وقت دے دیں۔ اسسٹنٹ اٹارنی جنرل

آپ نے کیا وقت لینا ہے ڈویژن بینچ میں سُن رہا ہوں اور یہاں بھی دو دو سال سے مُقدمات لاپتہ افراد کے زیرِ سماعت ہیں لیکن کوئی پیشرفت نہیں۔ چیف جسٹس عامر فاروق

یہ بیوروکریسی والا کام مت کریں۔ یہ مُلک کے مُفاد میں ہے۔ یہ صرف مُلک کے تشخیص کا نہیں آپ خود کو لاپتہ افراد کی جگہ رکھ کر سوچیں کہ اگر آپ کے گھر والوں یا آپ کا کوئی پیارا لاپتہ ہو جائے تو کیسا لگے گا۔ حکومت کو کہیں صرف انسان بن کر سوچیں۔ چیف جسٹس عامر فاروق

سر میری بیٹوں کو اسلامک یونیورسٹی کے باہر سے اُٹھایا گیا اُن کی ایک ماہ کی بیٹی تھی اب چھ سال کی ہے گھر جاؤں گا تو وہ پوچھے گی۔۔ ایڈوکیٹ مُشتاق، والد لاپتہ افراد

سر دو ہزار سولہ کا یہ وقوعہ ہے اور تمام کوششیں مُکمل ہوچُکی ہیں، اشتہار جاری کیے۔ پولیس کا چیف جسٹس کے استفسار پر جواب

پتہ نہیں ہنسنا چاہیے یا رونا چاہیے۔ آپ تفتیش کے اہل ہیں؟ اشتہار دے دیا یہ کیا تفتیش ہے؟ آپ کو تفتیش کی الف ب نہیں پتہ۔ چیف جسٹس عامر فاروق

چیف جسٹس عامر فاروق نے پولیس کی نااہلی پر برہم ہو کر ایس ایچ او سبزی منڈی اسلام آباد کو طلب کرلیا اور کیس کو ڈویژن بینچ میں دیگر لاپتہ افراد کے کیسز کے ساتھ کلب کرکے فکِس کرنے کا حُکم دیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے