اسلام آباد:سیکرٹیری صنعت و پیدا وار کی بے بسی کے اظہار نے اسٹیل مل کی 344 ایکڑ زمین پر تجاوزات اور قبضوں کی وجہ سے نقصان کروائے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی ذیلی کمیٹی کا کنوینئر وجیہہ قمر کی سربراہی میں اجلاس ہوا جس میں وزارت صنعت و پیداوار کے آڈٹ پیراز زیر غور آئے۔
پبلک اکاؤنٹس کی ذیلی کمیٹی میں اسٹیل مل کی 344 ایکڑ زمین پر تجاوزات اور قبضوں کی وجہ سے نقصان کے معاملے پر سیکریٹری صنعت وپیداوار نے بے بسی کا اظہار کردیا، کمیٹی نے چیف ایگزیکٹو نیشنل پراڈکٹویٹی آرگنائزیشن کی خلاف ضابطہ تقرری پر ذمے داران کے تعین کی ہدایت کر دی۔
آڈٹ حکام نے بتایا کہ چیف ایگزیکٹو نیشنل پراڈکٹویٹی آرگنائزیشن کو ادا کی گئی91 لاکھ سے زائد رقم رولز کی خلاف ورزی ہے جس پر وزیراعظم سے سی ای او کی تقرری کی منظوری نہیں ہوئی۔
ارکان کی کمیٹیوں میں عدم دلچسپی کے باعث کورم مکمل نہ ہونے کی وجہ سے اجلاس روکنا پڑا جس میں اس تقرری کی جانچ پڑتال کرنے پر ایک کمیٹی کی تشکیل دینی تھی تا کہ معلوم ہوسکے یہ تقرری کس نے کی ہے اور کس بنیاد پر کی ہے ۔
رکن سلیم مانڈوی والا کا کہنا تھا کہ ایمپلائمنٹ ایشوز کو تو پی اے سی کو ریگولرائز نہیں کرنا چاہیے اگر یہ ملازم سارے کنٹریکٹ کے ہی ہیں تو پھر یہ پیرا غلط ہے۔
آڈٹ حکام نے بتایا کہ اسٹیل مل کی 344 ایکڑ زمین پر تجاوزات 2007ء سے شروع ہوئیں، کمیٹی نے ہدایت کی کہ جو اراضی بچ گئی ہے اس کی حفاظت یقینی بنائی جائے۔
