اسلام آباد: پاکستان تحریک انصاف نے حکومت اور دیگر اسٹیک ہولڈرز سے مذاکرات اور بات چیت کے لیے شرائط کردیں۔
سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری ایک بحث میں حصہ لیتے ہوئے پنجاب اور خیبر پختونخوا اسمبلی تحلیل کرنے کی تجویز پر واضح کہا کہ اگر ہم پنجاب اور کے پی کے اسمبلی توڑتے ہیں تو ایک ایسا معاہدہ ہونا چاہیے جس کے ذریعے الیکشن کمیشن بدلا جائے اور سندھ اسمبلی بھی تحلیل ہونی چاہیے کیونکہ الیکشن کمیشن کے ہاتھ میں تو سب کچھ نہیں دیا جا سکتا۔
فواد چوہدری کا کہنا تھاکہ یہی ہمارا موقف ہے، اسی بات پر ہی سٹیک ہولڈرز سےبات چیت ہو گی۔ قبل ازیں فواد چوہدری نے کہا کہ پاکستان میں بند کمروں میں فیصلے نہیں ہو سکتے۔ملک میں نئے انتخابات ہو جاتے تو پاکستان بہتر حالات میں ہوتا۔تحریک انصاف اداروں کے وقار کی بحالی کی جنگ لڑ رہی ہے۔عدالتی نظام کا ایک بحران کھڑا ہو گیا ہے اور یہی حالات دوسرے اداروں کے بھی ہیں۔
پی ٹی آئی رہنما کا کہنا تھا کہ ہمارے عدالتی نظام کا دنیا کا عدالتی نظام سے موازنہ ہو رہا ہے۔سیاسی فیصلے سیاست دانوں نے کرنے ہوتے ہیں۔عدالتی نظام کا بحران کھڑا ہوگیا ہے، تین معاملات پر سپریم کورٹ سے نوٹس کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
