جی 20 سربراہی اجلاس میں چینی صدر شی جن پنگ اور کینیڈین وزیر اعظم جسٹن ٹروڈو کے درمیان آن کیمرا سخت جملوں کے تبادلے کو ایک غیر معمولی واقعہ سمجھا جارہا ہے جو دونوں ممالک کے پہلے سے کشیدہ تعلقات کو مزید پیچیدہ بنا سکتا ہے۔
خبررساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق صحافیوں کی جانب سے ریکارڈ کی گئی فوٹیج میں دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی بات چیت کی تفصیلات میڈیا پر منظر عام پر آگئیں جس میں شی جن پنگ کو جسٹن ٹروڈو کے ساتھ سخت جملوں کا تبادلہ کرتے دیکھا گیا۔
حالیہ ہفتوں میں کینیڈا کی جانب سے چین پر اپنے جمہوری اور عدالتی نظام میں مداخلت کا الزام عائد کی جارہا تھا، جسٹن ٹروڈو نے اسے کینیڈا کے شہریوں کے معاملات میں چین کی جانب سے مداخلت قرار دیتے ہوئے ایک روز قبل شی جن پنگ کے سامنے اس مسئلے کو اٹھایا تھا۔
انڈونیشیا میں سربراہی اجلاس کے موقع پر ریکارڈ کی گئی ایک منٹ کی ویڈیو کلپ میں شی جن پنگ نے ایک مترجم کے ذریعے جسٹن ٹروڈو کو بتایا کہ ’ہم نے جو بھی بات چیت کی وہ اخبارات میں لیک ہوگئی ہے، یہ مناسب نہیں ہے‘۔
BREAKING: Chairman Xi dresses down Justin Trudeau like a junior employee for leaking their private conversation to the media. Trudeau can barely walk after pic.twitter.com/QlRtbiBSIg
— Jack Posobiec 🇺🇸 (@JackPosobiec) November 16, 2022
