کراچی:امیرجماعت اسلامی کراچی حافظ نعیم الرحمن نے سرکاری ہسپتالوں کے ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل اسٹاف کی جانب سے ہونے والے طویل احتجاج ، او پی ڈی کی ہڑتا ل اور اس کے باعث مریضوں کو پیش آنی والی شدید مشکلات و پریشانیوں پر گہری تشویش کا ظہار کرتے ہوئے سندھ حکومت پر زور دیا ہے کہ ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکس کے تمام مسائل پر ہمدردی کے ساتھ غور کیا جائے۔
حافظ نعیم الرحمن نے کہا کہ ان سے مذاکرات کیے جائیں اور جائز مطالبات منظور کیے جائیں ۔ سندھ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ ان کی بات سنی جائے اور مسئلہ حل کیا جائے، پُر امن احتجاج ڈاکٹروں کا جمہوری حق ہے ، یہ اپنے مطالبات پیش کریں لیکن اسپتالوں میں او پی ڈی بند نہ کریں کیونکہ او پی ڈی کی مسلسل بندش کے باعث روزانہ ہزاروں مریضوں کو مشکلات و پریشانیوں کا سامنا ہے ۔
انہوں نے کہا کہ سندھ حکومت کی جانب سے ڈاکٹروں کے ساتھ غیر سنجیدہ رویہ رکھا جا رہا ہے کیونکہ ڈاکٹرز مذاکرات کے لیے تیار ہیں ، حکومت کی جانب سے وزراء پر مشتمل کمیٹی بھی بنائی گئی مگر تاحال بات چیت اور مذاکراتی عمل شروع نہیں کیا گیا اور ڈاکٹر و پیرامیڈیکس مسلسل احتجاج کر رہے ہیں ۔
امیر جماعت اسلامی کراچی کا کہنا تھا کہ اس دوران انہوں نے ریڈ زون میں بھی داخل ہونے کی کوشش کی جس پر احتجاج کرنے والے مرد و خواتین ڈاکٹرز پر لاٹھی چارج اور واٹر کینن کا بھی استعمال کیا گیا ۔اس صورتحال کے باعث اسپتالوں میں او پی ڈی کی بندش کو ایک ماہ سے زائد عرصہ ہو گیا ہے اور ایسا محسوس ہو تا ہے کہ سندھ حکومت اور محکمہ صحت کو ڈاکٹروں اور مریضوں کے مسائل سے کوئی سرو کار نہیں ہے۔
