اقوام متحدہ انسانی حقوق آفس کی ترجمان لِز تھروسل نے کہا ہے کہ ہمیں، کویت میں 7 افراد کو پھانسی دئیے جانے پر، سخت تشویش ہے۔
تھروسل نے موضوع سے متعلق تحریری بیان میں کہا ہے کہ کویت حکام نے کل ملک میں 7 افراد کو پھانسی دی ۔ یہ صورتحال نہایت تشویش ناک ہے۔ پھانسی پانے والوں میں سے 3 مرد اور ایک عورت کویت کے باشندے تھے، ایک عورت کا تعلق ایتھوپیا سے، ایک مرد کا تعلق پاکستان سے اور ایک کا شام سے تھا۔
تھروسل نے کہا ہے کہ کویت کے حکام نے 2017 کے بعد سے اب تک پہلی دفعہ پھانسی کی سزائیں دی ہیں اور یہ چیز نہایت افسوسناک ہے۔
تھروسل نے، کویت میں پھانسیوں کی سزا کےاقوام متحدہ جنرل کمیٹی کےرکن ممالک کی طرف سے دنیا بھر میں سزائے موت کی کالعدمی کی اپیل سے چند دن بعد دئیے جانے کی طرف توجہ مبذول کروائی اور کہا ہے کہ "کویت، پھانسی کی سزا دینے والے 38 ممالک میں شامل ہے”۔
انہوں نے کہا ہے کہ ہم کویت سے اپیل کرتے ہیں کہ پھانسی کی تمام سزاوں کو روک دیا جائے، جو سزائیں سنائی جا چکی ہیں انہیں روکنے کے لئے فوری طور پر سرکاری حکمنامہ جاری کیا جائے اور موت کی سزا کے منتظر قیدیوں کی سزا میں نرمی کی جائے”۔
تھروسل نے کویت کے حکام سے اس شعبے کے قوانین اور اطلاقات کو بین الاقوامی معیاروں سے ہم آہنگ بنانے کی بھی اپیل کی ہے۔
واضح رہے کہ کویت میں قتل کی مجُرم 2 عورتوں سمیت کُل 7 افراد کو پھانسی دی گئی تھی۔
کویت اٹارنی دفتر کے جاری کردہ بیان میں بھی کہا گیا تھا کہ قتل کے جُرم میں قید 7 افراد کو پھانسی دے دی گئی ہے۔
