چین میں کورونا پابندیوں کے خلاف لوگ سڑکوں پر نکل آئے ہیں، ارومچی اور بیجنگ میں حکومتی اقدامات کے خلاف احتجاج کیا اور نعرے باری کی، مظاہرین نے حکومت کی زیرو کووِڈ پالیسی کو مسترد کردیا۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ نے نیشنل ہیلتھ کمیشن کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا کہ دنیا کی سب سے بڑی معیشت رکھنے والا ملک چین میں گزشتہ روز (26 نومبر کو) 34 ہزار 909 کورونا کے ریکارڈ کیسز رپورٹ ہوئے۔
چین میں کورونا کیسز میں اضافے کی وجہ سے حکام نے شہریوں کی نقل و حرکت پر پابندی لگا دی اور کاروبار پر لاک ڈاؤن نافذ کردیا۔
‘We want freedom!’ pic.twitter.com/yoTeYaFJAx
— Eva Rammeloo (@eefjerammeloo) November 26, 2022
چین کی سرکاری خبر رساں ادارے ’شنہوا‘ کے مطابق 24 ستمبر کی رات ارومچی میں ایک عمارت میں آگ لگنے سے 10 افراد جاں بحق اور 9 زخمی ہوئے تھے جس کے بعد شمالی مغربی سنکیانگ کے علاقے میں شہریوں نے شدید احتجاج کیا۔
چین میں سخت لاک ڈاؤن کی وجہ سے چینی حکام نے لوگوں کے گھر کے دروازوں کو لوہے کی تاروں سے بند کردیا تھا جس کی وجہ سے رہائشی افراد عمارت سے باہر نہیں نکل سکے، تاہم چینی حکام نے الزامات کی تردید کردی ہے۔
البتہ ارومچی کی سڑکوں پر سخت لاک ڈاؤن کے خلاف احتجاج کیا گیا، مظاہروں کی ویڈیو سوشل میڈیا میں گردش کر رہی تھی جس میں لوگوں کے ہجوم کو دیکھا جاسکتا ہے۔
ویڈیوز میں دیکھا جاسکتا ہے کہ سیکٹروں لوگ ارومچی کے سرکاری دفاتر کے باہر جمع ہو رہے ہیں اور ’لاک ڈاؤن ختم کرو‘ کے نعرے لگائے جارہے ہیں، ایک اور فوٹیج میں درجنوں لوگ شہر کے مشرقی علاقے میں احتجاج کر رہے ہیں اور سیکیورٹی اہلکاروں اور حکام کے خلاف نعرے لگا رہے ہیں۔
رائٹرز کے مطابق ویڈیو میں دیکھا جاسکتا ہے کہ ایک پلازہ میں لوگ چین کا قومی ترانہ پڑھ رہے ہیں جس میں وہ کہہ رہے ہیں کہ ’اُٹھو! وہ لوگ جو غلام نہیں بننا چاہتے‘ جبکہ کئی مظاہرین نے لاک ڈاؤن ختم کرنے کے نعرے لگائے۔
Protests against China’s zero-Covid lockdown in Guangzhou. 👀 pic.twitter.com/nleASknlu3
— KC Tha Gr8 (@KC4Gr8NESS) November 27, 2022
ارومچی پولیس نے چینی مائیکرو بلاگنگ سائٹ ’ویبو‘ پر پوسٹ کرتے ہوئے کہا کہ پولیس نے عمارت میں آگ سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد سے متعلق آن لائن افواہیں پھیلانے کے الزام میں ایک خاتون کو حراست میں لیا ہے۔
Shanghai protest tonight.
People are chanting “down with the Chinese Communist Party” and “step down Xi”.
This is happening in cities across the country.
Something big is brewing. pic.twitter.com/tRD2Bbo54Q
— Visegrád 24 (@visegrad24) November 26, 2022
سرکاری نشریاتی ادارے ’سی سی ٹی وی‘ کا کہنا ہے کہ ابتدائی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ عمارت میں ایک گھر کے کمرے میں بجلی کے بورڈ میں خرابی کی وجہ سے آگ لگی تھی۔
تاہم براڈ کاسٹر کے مطابق ارومچی کے میئر مائیمیتیمنگ کیڈ نے عمارت میں آگ لگنے پر معافی مانگی ہے۔
After yesterday’s fire in a high-rise building in Urumqi, which killed at least 10 people due to lockdown measures, people in China are now breaking down gates and other obstacles that have been keeping them locked-up for months
This video is from Chengdu pic.twitter.com/13OH4mWKki
— Visegrád 24 (@visegrad24) November 26, 2022
بیچنک میں میں لاک ڈاؤن کے خلاف احتجاج کیا گیا، جبکہ شنگھائی حکام نے میوزیم اور لائبریری جیسے مقامات میں داخلے کے لیے کووڈ ٹیسٹ پر سخت پالیسی نافذ کردی ہے، پالیسی کے مطابق لوگوں کو 48 گھنٹون کے اندر کووڈ کی منفی رپورٹ دکھانا ہوگی۔
Protests today in cities across China after the high-rise fire which killed at least 10 people in Urumqi due to lockdown measures.
Students are leading the protests.
The principal came out at the Nanjing University told students “you will pay for this” pic.twitter.com/GCjOLBuOWv
— Visegrád 24 (@visegrad24) November 26, 2022
