کراچی: ٓرمی چیف کے حوالے سے نامناسب الفاظ استعمال کیے جانے پر رہنما پی ٹی آئی اور سینیٹر اعظم سواتی کے خلاف کراچی میں ایف آئی آر درج کیے جانے کا سلسلہ دوسرے روز بھی جاری رہا جس کے بعد ان کے خلاف خلاف درج مقدمات کی تعداد 7 ہوگئی ۔
عزیز بھٹی پولیس نے چودھری مظہر اقبال کی مدعیت میں پی ٹی آئی رہنما اور سینیٹر اعظم سواتی کے خلاف مقدمہ نمبر 1135 سال 2022 بجرم دفعات 505 ، 131 ، 153 اے ، 501 اور 504 کے تحت درج کرلیا۔
ایف آئی آر کے متن کے مطابق مدعی مقدمہ نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ وہ گولڈن ٹاؤن میں چودھری ہاؤس کا رہائشی ہے اور پیر کی دوپہر تقریباً 3 بجے کے قریب نیپا چورنگی بلاک 10 گلشن اقبال میں قائم ڈپارٹمنٹل اسٹور میں شاپنگ کے لیے آیا تھا اور اسی دوران اپنے موبائل فون میں پیغامات چیک کیے تو ٹوئٹر پر سینیٹر اعظم خان سواتی کا ٹوئٹ جو کہ افواج پاکستان کے سپہ سالار کے متعلق انتہائی تضحیک آمیز تھا۔
متن کے مطابق اس کے علاوہ بھی ہمارے معزز اداروں کے فرض شناس افسران کے خلاف اس طرح کے ٹوئٹس دیکھ کر اور پڑھ کر مجھے بہت زیادہ ذہنی کوفت ہوئی کہ یہ شخص ہمارے ملک کے آرمی چیف اور دیگر معزز افسران کے خلاف تضحیک آمیز اور گندی زبان استعمال کر رہا ہے، جس سے ہمارے ملک اور اس کے معزز اداروں کے افسران کی دینا کے سامنے تضحیک ہوئی ۔ہمارے فوجی جوان جو کہ روزانہ سرحدوں پر ملک کی سالمیت اور بقا کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کر رہے ہیں۔
مدعی مقدمہ نے بیان دیا ہے کہ ہمارے ملک کی فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ اور دیگر معزز افسران کے خلاف نامناسب زبان استعمال کرنے اور ساری دنیا کے سامنے تضحیک کرنے پر قانونی کارروائی چاہتا ہوں، جس پر پولیس نے پی ٹی آئی کے رہنما اور سینیٹر اعظم خان سواتی کے خلاف مقدمہ درج کر کے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا ۔
