ترکیہ کے صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ مسلمان ہونا، اپنی ذات سے شروع ہو کر اپنے کنبے، اپنے معاشرے اور پوری انسانیت کے مقابل، اپنی ذمہ داریوں کو محسوس کرنے کا مفہوم رکھتا ہے۔ دنیا میں جہاں بھی ظلم ہو رہا ہے جہاں بھی کوئی بھوک سے فاقے سے مر رہا ہے اس کی ذمہ داری ہم سب پر عائد ہوتی ہے۔
صدر رجب طیب ایردوان نے استنبول کنوینشن سینٹر میں منعقدہ اسلامی تعاون تنظیم کی اقتصادی و تجارتی تعاون دائمی کمیٹی کے 38 ویں اجلاس کی افتتاحی نشست سے خطاب کیا۔
انہوں نے کہا ہے کہ "خواہ ہماری زبانیں، ثقافتیں اور رہائشی جغرافیے مختلف ہی کیوں نہ ہوں ہم ایک کنبے کے فرد ہیں اور ہم پر اپنے تمام بہن بھائیوں کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے۔ ہمارے درمیان بھی بعض اوقات بحث و تکرار ہو سکتی ہے، کشیدگی ہو سکتی ہے تناو ہو سکتا ہے لیکن ہم ان چیزوں کو زندگی کے فطری بہاو میں معمولی مسائل کی شکل میں دیکھتے ہیں "۔
انہوں نے، کورونا وائرس وباء کے دنوں میں ترکیہ سے طبّی امداد طلب کرنے والے 160 ممالک کو طبّی سامان بھیجنے کا ذکر کیا اور کہا ہے کہ ترکیہ نے ان مشکل دِنوں میں اپنے پاس موجود تمام امکانات کو ضرورت مند ممالک کے ساتھ بانٹا ہے”۔
24 فروری سے جاری روس۔یوکرین جنگ کے خاتمے کے لئے بھی پہلے دن سے جاری کاروائیوں کی طرف توجہ مبذول کرواتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ "براستہ بحیرہ اسود، اناج کی ترسیل اور قیدیوں کے تبادلے کو یقینی بنا کر ہم نے ثابت کر دیا ہے کہ مسائل کا سفارتی حل ممکن ہے۔ اس سفارتی کامیابی کی بدولت بحیرہ اسود کے راستے سے 11 ملین ٹن سے زائد اناج کی ترسیل کی گئی ہے”۔
صدر ایردوان نے کہا ہے کہ مجھے یقین ہے کہ استنبول میں قائم کئے گئے’ اسلامی تعاون کمیٹی استحکام مرکز ‘کو بین الاقوامی تجارت میں مقبولیت حاصل ہو گی۔
یونان میں مسلمان ترک اقلیت کی سالوں سے جاری حق تلفی کے بارے میں انہوں نے کہا ہے کہ انہیں مادری زبان سے محروم رکھنے اور ان کے شناخت رد کرنے جیسی حق تلفیوں کے مقابل مزید خاموشی اختیار نہیں کی جانی چاہیے۔ دوسری طرف ہم اپنے قبرصی ترک بھائیوں کے ساتھ ہونے والی ناانصافیوں سے بھی باخبر ہیں۔
1976 کی سرحدوں میں اور بیت المقدس کے دارالحکومت والی آزاد فلسطینی حکومت کی حمایت کا اعادہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ بیت المقدس اور مسجد اقصیٰ کے لئے ہم سے جو بن پڑ رہا ہے ہم کر رہے ہیں اور کرنا جاری رکھیں گے۔ عالمِ اسلام کو ان حالات سے مزید لاتعلق نہیں رہنا چاہیے”۔
ترکیہ میں شامی مہاجرین کے بارے میں صدر رجب طیب ایردوان نے کہا ہے کہ” 3،5 ملین سے زائد شامیوں کی میزبانی کر کے ترکیہ نے بھائی چارے کا حق ادا کر دیا ہے۔ ہم اپنے ملک کے ساتھ ساتھ شام اور عراق کی بھی زمینی سالمیت کے تحفظ اور انسدادِ دہشت گردی کے معاملے میں پُر عزم ہیں”۔
