English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

چشمہ شفاء۔13

القمر

ڈاکٹر مہمت اُچار کے طبّی مشوروں پر مبنی پروگرام چشمہ شفاء کے ساتھ آپ کی خدمت میں حاضر ہیں۔

آج ہم آپ کے ساتھ چائے کی ان اقسام کے بارے میں بات کریں گے جو کھانسی کے علاج کا آزمودہ  نسخہ ہیں۔

تو آئیے دیکھتے ہیں کہ کون کون سی چائے کھانسی کی شدت کو کم کرتی اور کھانسی سے نجات دِلاتی ہے۔

 

1۔سفر جل کے پتّے

ایک گلاس اُبلا ہوا پانی لیں اور اس میں سفر جل کے پتّوں کو دم  دے کو چائے تیار کریں۔ پتّے  خشک ہوں تو دم 10 سے 15 منٹ تک اور تازہ  ہوں تو دم  3 سے 5 منٹ تک کافی ہوگا۔ دن بھر میں  اس چائے کے 2 سے 3 کپ استعمال کئے جا سکتے ہیں۔ اگر آپ اس چائے کو بطور علاج استعمال کر رہے ہیں تو اس میں شکر نہ ملائیں۔

 

2۔ سیب کی چائے

سیب کے چھلکے ، لنڈن  اور 2 کپ پانی کو ایک دیگچی میں ڈال کر اُبالیں۔ بعد میں اس میں ایک ٹکڑا دارچینی کا ڈالیں اور آدھا لیموں نچوڑیں۔ چائے کو ٹھنڈا کئے بغیر نوش فرمائیں۔

 

3۔ روز ہِپ کی چائے

روز ہِپ کو ایک کپ پانی میں اُبالیں اور اس میں ادرک کا پاوڈر مِلا کر گرم گرم   استعمال کریں۔

 

4۔ ایکینیزیا چائے

ایکینیزیا ایک ایسی بوٹی ہے جو ٹھنڈ، نزلہ اور زکام جیسی تکالیف کا مجّرب علاج سمجھی جاتی ہے۔ اس چائے کو دم دینے کے بعد ایک میٹھے کا چمچ شہد مِلا کر دن میں 2 کپ استعمال کیا جا سکتا ہے۔

 

5۔سفر جل، شہد اور لِنڈن

سفر جل، شہد اور لِنڈن کی چائے کھانسی کو ختم کرنے کے شاندار ترین آمیزوں میں سے ایک ہے۔ یہ چائے حلق کو نرم کر کے کھانسی کا علاج کرتی ہے۔ یہ چائے دن بھر میں 2 سے 3 کپ  تک استعمال کی جا سکتی ہے۔

 

6۔ شہد والی اجوائن کی چائے

کافی کے 2 چمچ باریک پِسی ہوئی اجوائن کو ایک گلاس اُبلتے ہوئے پانی میں ملائیں اور ڈھکن بند کر کے 5 منٹ کے لئے دم پر رکھ دیں۔  دم آنے کے بعد چائے کو چھان لیں اور شہد مِلا کر استعمال کریں۔

 

7۔ ادرک، شہد اور لونگ

ایک کھانے کا چمچ شہد لیں اور اس میں ایک چائے کا چمچ ادرک  کا پاوڈر اور ایک چائے کا چمچ لونگ ملائیں ۔ چاہیں تو اس میں لیموں کا رس بھی مِلا سکتے ہیں۔ کھانسی سے نجات کے لئے اس آمیزے سے دن بھر میں  1 یا 2 میٹھے کے چمچ استعمال کریں۔

 

8۔ادرک اور دارچینی کی چائے

تازہ ادرک کے 3 قتلے ، 8 عدد دارچینی کے ٹکڑے، 8 عدد لونگ، 1 عدد لیموں، ڈیڑھ لیٹر پانی اور ایک چمچ شہد لیں۔ شہد خارج دیگر تمام اجزاء کو پانی میں شامل کر کےاُبالیں۔ چائے تیار ہونے پر شہد مِلا کر استعمال کریں۔

 

9۔ سیاہ مرچ  اور شہد

سیاہ مرچ کو گرم پانی میں دم دے کر اس سے غرارے کئے جا سکتے ہیں۔ یا پھر چائے تیار کر کے ایک چمچ شہد مِلا  کے استعمال کر سکتے ہیں۔ لیکن اگر آپ کو معدے کے السر ، جلن اور کھٹے ڈکاروں جیسے مسائل کا سامنا ہو تو اس چائے کا حد سے زیادہ استعمال کرنے سے پرہیز کریں۔

 

10۔ سبز چائےا ور الائچی

الائچی والی  سبز چائے کو دن میں 2 سے 3 کپ تک استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اس کے علاوہ سبز چائے  سے غرارے کرنا بھی کھانسی سے نجات دِلانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ لیکن اگر آپ کو ہائپر ٹینشن یا پھر ٹائیکوکارڈیا کے مسائل کا سامنا ہے تو اس چائے کو دن میں 2 کپ سے زیادہ نہ پئیں۔

 

11۔ سفر جل کے بیج

ایک چائے کا چمچ سفر جل کے بیج لے کر انہیں موٹا موٹا کُوٹ لیں اور ایک کپ اُبلے پانی میں 5 سے 10 منٹ کے دم کے بعد استعمال کریں۔ عام طور پر جڑی بوٹیوں کی چائے بہت تیز اثر نہیں ہوتیں اس لئے انہیں کھانے سے 30 منٹ قبل یا پھر کھانے سے ایک 2 گھنٹے بعد جب معدہ خالی ہو اس وقت استعمال کرنا زیادہ مفید ثابت ہوتا ہے۔

 

12۔ادرک، کالی مرچ، شہد، لیموں اور دارچینی

ایک کھانے کا چمچ شہد، ایک چائے کا چمچ ادرک پاوڈر، ایک چائے کا چمچ سیاہ مرچ پاوڈر، ایک چائے کا چمچ دارچینی پاوڈر اور آدھا لیموں ملائیں اور کھانوں کے درمیان وقفوں میں جب معدہ خالی ہو تو 2 سے 3 میٹھے کے چمچ استعمال کریں۔

 

13۔ساج کی چائے

ساج کی چائے نہ صرف گلے کے اعصاب کو نرم کرتی بلکہ درد میں بھی افاقہ دیتی ہے۔ اسے چائے کی شکل میں بھی استعمال کیا جا سکتا ہے اور اس سے غرارے بھی کئے جا سکتے ہیں۔

 

14۔ ملیٹھی اور ادرک کی چائے

ایک میٹھے کا چمچ پِسی ہوئی ملیٹھی  میں ایک چائے کا چمچ ادرک پاوڈر ملائیں۔ اس آمیزے کو ایک گلاس اُبلے ہوئے پانی میں 3 سے 5 منٹ تک دم دینے کے بعد استعمال کریں۔ اس چائے کو دن میں 2 سے 3 دفعہ پیا جا سکتا ہے۔

 

15۔جڑی    بوٹیوں  کے آمیزوں اور چائے کے بارے میں اہم احتیاطیں

خیال رکھیں کہ جڑی بوٹیوں کی بعض چائے ایسی ہیں جنہیں اُبلے پانی میں دم دے کر استعمال کرنا چاہیے اور بعض ایسی ہیں جنہیں پانی کے ساتھ اُبالنے کے بعد۔ صرف دم دینا اور پانی کے ساتھ اُبالنا یہ دونوں طریقے ایک دوسرے سے بہت مختلف ہیں۔

 

  • اگر جڑی بوٹی لکڑی یا جڑ کی شکل میں ہو تو اسے اُبالنے کا دورانیہ 30 منٹ تک ہونا چاہیے۔
  • اگر پتّوں کی شکل میں ہے تو اسے 5 سے 20 منٹ تک دم  دے کر استعمال کرنا چاہیے۔
  • ہر جڑی بوٹی کی چائے نہیں بنائی جا سکتی۔ چائے بنانے کے لئے اس جڑی بوٹی کا گرم پانی کو برداشت کرنے کے قابل ہونا ضروری ہے۔
  • اگر جڑی بوٹیوں کی چائے کو علاج کی نیت سے استعمال کیا جا رہا ہو تو اس میں شکر نہیں ملانی چاہیے۔ شکر، چائے میں شامل موئثر اجزا کے ساتھ، ردعمل  کا سبب بن سکتی ہے۔ اگر شہد ملایا جا رہا ہو تو پانی کا درجہ حرارت 40 درجے سے کم ہونا چاہیے۔
  • جڑی بوٹیوں کی چائے سے بھرپور فائدہ حاصل کرنے کے لئے اسے اس وقت استعمال کریں جب آپ کا پیٹ خالی ہو۔
  • جڑی بوٹیوں کی چائے کی تیاری میں تازہ پانی کا استعمال کریں بصورت دیگر چائے کے موئثر اجزا کی تاثیر کم یا ختم ہو سکتی ہے۔
  • اسینشئیل اجزا والی چائے کو محفوظ رکھنےکےلئے ڈھکن والے جار کا استعمال کریں بصورت دیگر چائے کے اجزاء آکسیجن کے ساتھ مِل کر تبدیل ہو سکتے ہیں۔

 

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے