English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

ٹی ٹی پی کے ساتھ مذاکرات ختم نہیں ہوئے، ترجمان خیبرپختونخوا حکومت

القمر
بیرسٹر سیف نے کہا ’ٹی ٹی پی کی جانب سے جنگ بندی ختم کرنے کا اعلان افسوسناک ہے، انہوں نے مجھے بھی میسج کر کے اپنے فیصلے سے آگاہ کیا ہے۔‘
’میں نے طالبان کو سمجھایا ہے کہ جنگ بندی ختم کرنے کا فیصلہ غلط ہے۔ ہمیں مذاکرات کے سلسلے کو ختم نہیں کرنا چاہیے۔‘
اگر زمینی حقائق کو دیکھا جائے تو گزشتہ تقریباً چھ ماہ سے ٹی ٹی پی کی جانب سےدہشت گردانہ کارروائیاں جاری تھیں۔ سوات، وزیرستان اور لکی مروت میں ٹی ٹی پی کے حملوں میں متعدد افراد ہلاک ہوئے۔
بیرسٹر سیف کے مطابق ’ٹی ٹی پی کے رہنماؤں کی پاکستانی سیاست پر گہری نظر ہے اور اس موضوع ہر ہماری بات چیت بھی ہوتی رہتی ہے۔ تحریک طالبان قول و فعل میں تضاد رکھنے والے سیاستدانوں کے بارے میں تحفظات رکھتے ہیں۔‘
’میں اب بھی تحریک طالبان پاکستان کو مذاکرات کی دعوت دیتا ہوں۔ آئیں ہتھیار رکھیں اور مذاکرات سے حل نکالنے کی کوشش کریں۔‘
کوئٹہ میں پولیس گاڑی پر دھماکے کی ذمہ داری ٹی ٹی پی نے لی تھی۔ فوٹو: اے ایف پی
ٹی ٹی پی کے وزیر دفاع کی جانب سے 28 نومبر کو ایک اعلامیہ جاری ہوا جس میں جنگ بندی کے خاتمے کے اعلان کے ساتھ مزید حملوں کی بھی دھمکی دی گئی۔
اعلامیے کے دو روز بعد کوئٹہ میں پولیس کی گاڑی پر دھماکہ کیا گیا جس میں 2 افراد ہلاک اور 25 زخمی ہوئے۔ اس کے بعد 4 دسمبر کو نوشہرہ میں ہونے والے حملے میں تین پولیس اہلکاروں کی بھی جان گئی۔ ان دونوں حملوں کی ذمہ داری بھی ٹی ٹی پی نے قبول کی تھی۔
خیبرپختونخوا کے مشیر برائے داخلہ بابر سلیم سواتی نے اپنے ایک بیان میں کہا تھا کہ گزشتہ 10 مہینوں میں ایک سو سے زائد پولیس اہلکار ہلاک ہو چکے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ پچھلے 11 مہینوں میں607 دہشت گردوں کو گرفتار کیا گیا جبکہ 155 مطلوب دہشت گرد پولیس مقابلوں میں مارے گئے ہیں۔
واضح رہے کہ ٹی ٹی پی اور حکومت پاکستان کے درمیان ہونے والے مذاکرات کی اب تک میں دو نشستیں ہو چکی ہیں جس کے وفد میں بیرسٹر سیف وفاق کی جانب سے نمائندے کے طور پر شریک ہوئے تھے۔
پاکستان کی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) نے پیر کو جاری بیان میں کہا کہ سکیورٹی فورسز نے شمالی وزیرستان کے علاقے جھلرا الگاد میں انٹیلی جنس معلومات کی بنیاد پر آپریشن میں دہشت گردوں کے ٹھکانے کو نشانہ بنایا جس میں 5 دہشت گرد مارے گئے، جبکہ فائرنگ کے تبادلے میں فوج کے ایک جوان کی جان چلی گئی۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ہلاک ہونے والے دہشت گرد سکیورٹی فورسز پر حملوں اور شہریوں کی ٹارگٹ کلنگ میں ملوث تھے، ان سے اسلحہ اور گولہ بارود بھی برآمد ہوا ہے۔

منبع اردو نیوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے