فلسطین کے مقبوضہ علاقے دریائے اردن کے مغربی کنارے سے منسلک شہر جنین میں اسرائیلی فوجیوں کی فائرنگ کے نتیجے میں 3 فلسطینی ہلاک ہو گئے ہیں۔
فلسطین وزارت صحت نے جاری کردہ تحریری بیان میں کہا ہے کہ ” آج صبح اسرائیلی قابض فوجوں کے جنین پر حملے کے دوران 3 افراد ہلاک ہو گئے ہیں”۔ بیان میں ہلاک ہونے والوں کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔
علاقے کے عینی شاہدوں کے مطابق اسرائیلی قابض فوجوں نے جنین پر دھاوا بول دیا۔ فوجیوں اور فلسطینیوں کے درمیان جھڑپ میں اسرائیلی فوجیوں نے فلسطینیوں کی گاڑیوں پر فائر کھول دیا جس کے نتیجے میں متعدد افراد زخمی ہو گئے ہیں۔
دوسری طرف اسلامی جہاد موومنٹ کے عسکری وِنگ ‘سرایا القدس’ نے جاری کردہ بیان میں کہا ہے کہ جنین مہاجر کیمپ کے اطراف میں قابض قوتوں کے چھاپوں کے مقابل مسلح مزاحمت کی گئی ہے۔ مزاحمت کے دوران سرایا القدس کے بعض اہلکار زخمی ہو گئے ہیں۔
اسرائیلی فوج کے جاری کردہ تحریری بیان میں کہا گیا ہے کہ اسرائیلی فوجیوں نے دریائے اردن کے مغربی کنارے، رملّہ، نابلوس اور الخلیل میں چھاپے مارے۔ چھاپوں میں "دہشتگرد اور سکیورٹی جرائم سے متعلقہ "15 مشتبہ افراد کو حراست میں لے لیا گیا ہے۔
بیان میں جنین میں ہلاک کئے گئے 3 فلسطینیوں کے بارے میں کوئی معلومات فراہم نہیں کی گئیں۔
واضح رہے کہ رواں سال کے آغاز سے اسرائیلی فوج تقریباً تقریباً ہر روز دریائے اردن کے مغربی کنارے میں چھاپے مار رہی اور ان چھاپوں میں ایک تواتر سے فلسطینیوں کو ہدف بنا رہی ہے۔
اقوام متحدہ کے جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق 2005 سے لے کر اب تک کے عرصے میں 2022 کا سال دریائے اردن کے مغربی کنارے میں خونی ترین سال ریکارڈ کیا گیا ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق 29 نومبر 2022 تک دریائے اردن کے مغربی کنارے میں 153 اور غزہ میں 52 فلسطینیوں سمیت کُل 205 فلسطینی ہلاک کر دئیے گئے، ہلاک کئے گئے افراد میں 47 بچے تھے۔
اقوام متحدہ کے بیان کا یہ حصہ مرکزِ توجہ بنا ہے کہ "مذکورہ اموات میں سے زیادہ تر اسرائیلی فوج کی طرف سے انتہائی اور مہلک طاقت کے استعمال کے نتیجے میں واقع ہوئی ہیں”۔
