اسلام آباد:وزیر اعظم کے ترجمان و معاون خصوصی برائے پبلک پالیسی و اسٹریٹیجک کمیونیکیشنز سید فہد حسین نے کہا ہے کہ عمران کا اپنایا گیا امریکی سازش کا بیانیہ ایک وزیرکی اختراع تھی، اگرچہ روزانہ کی سیاست ایک متوقع تسلسل کے ساتھ جاری ہے، 3 ایسے ‘لال جھنڈے’ جن سے ہر پاکستانی کو فکر مند ہونے کی ضرورت ہے وہ مندرجہ ذیل ہیں اور یہ اس وقت سے منظر عام پر آئے ہیں جب تحریک انصاف کو اپریل 2022 میں حکومت سے ہٹا گیا۔
ان خیالات کااظہار سید فہد حسین نے اتوار کے روز ٹوئٹر پر جاری بیان میں کیا کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان نے جو ‘امریکی سازش’ کا بیانیہ اپنایا وہ ایک وزیر کے خیالات کی اختراع تھی اور خان صاحب نے یہ بیانیہ اپنا لیا جانتے ہوئے کہ یہ امریکہ کے ساتھ ہمارے تعلقات کو ٹھیس پہنچائے گا۔
یہ تینوں پہلو ایک ایسے ٹرینڈ کی نشاندہی کرتے ہیں جو پی ٹی آئی کی سیاست کے دیگر پہلوؤں میں بھی ظاہر ہوتا ہے۔ اور اس میں جو اصل بات اخذ کرنے والی ہے، یعنی کہ ایسی سیاست کا مفہوم ہے کیا، یہ حقیقت اس سے بھی زیادہ تشویش ناک ہے
— Fahd Husain (@Fahdhusain) December 11, 2022
انہوں نے پھر بھی ایسا ہی کیا کیونکہ ان کا خیال تھا کہ ایسا کرنا ان کی سیاست کے لیے فائدہ مند ہے۔انہوںنے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی نے اپنے اوپر ہونے والے قاتلانہ حملے میں سیاسی اور عسکری قیادت پر ملوث ہونے کا الزام لگایا۔ جس کا ان کے پاس کوئی ثبوت نہیں تھا۔ وہ جانتے تھے کہ یہ الزام کس طرح ریاست کی ساکھ کو نقصان پہنچائے گا۔ پھر بھی ان کا خیال تھا کہ اس نقصان سے ان کی سیاست کو فائدہ ہوگا۔
اگرچہ روزانہ کی سیاست ایک متوقع تسلسل کے ساتھ جاری ہے، 3 ایسے ‘لال جھنڈے’ جن سے ہر پاکستانی کو فکر مند ہونے کی ضرورت ہے وہ مندرجہ ذیل ہیں ۔اور یہ اس وقت سے منظر عام پر آئے ہیں جب تحریک انصاف کو اپریل 2022 میں حکومت سے ہٹا گیا
— Fahd Husain (@Fahdhusain) December 11, 2022
سید فہد حسین کا کہنا تھا کہ یہ تینوں پہلو ایک ایسے ٹرینڈ کی نشاندہی کرتے ہیں جو پی ٹی آئی کی سیاست کے دیگر پہلوئوں میں بھی ظاہر ہوتا ہے۔ اور اس میں جو اصل بات اخذ کرنے والی ہے، یعنی کہ ایسی سیاست کا مفہوم ہے کیا، یہ حقیقت اس سے بھی زیادہ تشویش ناک ہے۔

