انقرہ: ترکیہ میں بین الاقوامی کشمیر کانفرنس میں شامل ہونے والے کشمیری وفد نے اسلامی تعاون تنظیم ترکی کے پارلیمانی یونین کے صدر اورترک پارلیمنٹ کے رکن پروفیسر ڈاکٹر اورحان اطالے، ڈپٹی سپیکر ترک پارلیمنٹ لیونٹ گوک ، ترک پارلیمنٹ کی انسانی حقوق کی تحقیقاتی کمیٹی کے رکن اے وی محمود تنال، رکن ترک پارلیمنٹ یوکسل منصور سمیت ترکیہ کی کئی اہم شخصیات سے ملاقات کی ہے ۔
کشمیری وفد میں جماعت اسلامی آزاد کشمیر کے سابق امیر عبدالرشید ترابی،،کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموں وکشمیر شاخ کے سابق کنوینر غلام محمد صفی،کل جماعتی حریت کانفرنس آزاد جموں وکشمیر شاخ کے جنرل سیکرٹری شیخ عبدالمتین، پاک کشمیر فورم استنبول کے صدرڈاکٹر ندیم اورمسٹر طارق شامل تھے ۔
ان ملاقاتوں میں مقبوضہ جموں وکشمیر کی صورت حال زیر بحث آئی ۔ کشمیری رہنماوں نے ترک رہنماوں کو بتایا کہ بھارت کے اقدامات کے باعث کشمیری مسلمانوں کی تہذیبی شناخت ختم کی جارہی ہے۔ کشمیر میں بھارت تمام بین الاقوامی قوانین اور دو طرفہ معائدے پا مال کر رہا ہے ۔
مودی حکومت کے مسلم اور پا کستان دشمن اقدامات کی وجہ سے پورا خطہ تباہ کن جنگ کے دھانے پر ہے ۔ کشمیری رہنماوں نے زور دیا کہ خطے اور دنیا کے امن کو تباھی سے بچانے کے لئے مسئلہ کشمیر حل کیا جا ئے۔
کشمیری رہنماوں نے اس توقع کا اظہار کیا کہ ترکیہ ماضی کی طرح کشمیر پر اپنے جرات مندانہ موقف کا اظہار جاری رکھے گا۔ترکیہ کے رہنماوں نے کشمیری قیادت کو یقین دلایا کہ کشمیریوں کے حق خودارادیت کے لیے آواز بلند کی جائے گی ۔
کشمیری وفد نے کشمیر میں مودی حکومت کے اقدامات سے ترک قیادت کو آگاہ کیا اور یہ واضح کیا کہ اگر مسلم دنیا کے حکمرانوں نے مودی کے عزائم کو لگام نہ دی تو کشمیر دوسرا سپین بن سکتا ہے کشمیریوں کے حق خود اردیت کے حوالے سے اقوام متحدہ اور اوآئی سی کی لاتعداد قراردادیں موجود ہیں جن پر بھارت کی ہٹ دھرمی کی وجہ سے عملدرآم نہ ہو سکا ۔
تحریک آزادی کچلنے کے لیے کالے قوانین سے لیس دس لاکھ بھارتی فو ج کشمیر یو ں کا قتل عام کررہی ہے ۔ گزشتہ ستر سالوں میں کشمیری پانچ لاکھ جانوں کا نزرانہ پیش کر چکے ہیں اور چالیس لاکھ سے زائد ہجرت پر مجبور ہیں ۔
وفد نے کہا کہ ترکیہ نے کشمیرپر رابطہ گروپ کے اہم ممبر کی حیثیت سے ہمیشہ اہم کردارادا کیا۔ علاوہ ازیں صدر اردوان نے اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے کشمیریوں کی ترجمانی کی جس پرہم شکر گزار ہیں ۔ لیکن مودی کے تازہ اقدامات کے تدارک کے لئے اوآئی سی وزرائے خارجہ کا اجلاس طلب کرتے ہو ئے بھارت کے خلاف سخت اقدا مات کا اہتما م کیا جائے۔
ترک رہنماوں نے جموں وکشمیر کو ایک بین الاقوامی انسانی اور اسلامی مسئلہ قراردیتے ہوئے کہا کہ پوری تر کیہ قوم اہل کشمیر کی پشت پر کھڑی ہے ۔ دریں اثنا کشمیری وفد کے ارکان غلام محمد صفی اور عبدالمتین شیخ کے ہمراہ ترک پارلیمنٹ میں پر یس کا نفر نس سے خطاب کرتے ہوئے عبدالرشید ترابی نے کہا کہ تنازعہ کشمیر کے حل کے لیے اقوام متحدہ کو کردار ادا کرنا چاہیے۔
بھارت میں مودی کی فاشسٹ حکو مت کے پو ری مسلم دنیا کے خلاف جارحانہ عزائم ہیں ۔ کشمیر کے علاوہ بھارتی مسلمانو ں کی تہذیب وثقافت بھی دا پر لگ چکی ہے مسا جد بند کی جارہی ہیں ، حجاب پر پابندی لگاتے ہوئے مسلمان بچیوں پر تعلیم کے دروازے بند د کئے جارہے ہیں ۔
جعلی مقدمات میں مسلما ن نوجوانوں کو پا بند سلاسل کرتے ہو ئے ان کے اثاثے ضبط کئے جا رہے ہیں پاکستان جو مسئلہ کشمیر کے علاوہ مسئلہ فلسطین اورمسلم دنیا کے دیگر مسائل پر آواز اٹھا تا ر ہا بھارت کا خاص ہدف ہے۔
گزشتہ برس یورپی یو نین نے بھارتی پراپیگنڈا کی پانچ سو سے زائد سائٹس بے نقاب کیں جو شب وروز کشمیر پاکستان مسلم اقدار اور ا ہم مسلم ممالک جن میں ترکی سعودی عرب اور ایران شامل تھے کے خلاف منفی پروپیگنڈا میں مصروف تھیں۔

