English Al Qamar Urdu جون 23, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

دنیا کا پہلا ملک جہاں  نئی نسل کیلئے سگریٹ کی فروخت غیر قانونی قرار

آکلیند:نیوزی لینڈ میں ایک نئے قانون کی منظوری دی گئی ہے جس کا مقصد آنے والی نسل کے لیے سگریٹ خریدنا قانونی طور ناممکن بنانا ہے۔

نیوزی لینڈ کی جانب سے منظوری کیے گئے قانون کے تحت 14سال یا اس سے کم عمر افراد کے لیے زندگی بھر کے لیے سگریٹ خریدنا ناممکن بنایا جائے گا،نیوزی لینڈ کی ایسوسی ایٹ وزیر صحت عائشہ ورال نے بتایا کہ قانون کی منظوری سے ہزاروں افراد زیادہ لمبی اور صحت مند زندگی گزار سکیں گے جبکہ تمباکو نوشی سے ہونے والی بیماریوں جیسے کینسر، ہارٹ اٹیک اور فالج سمیت دیگر پر خرچ ہونے والے اربوں ڈالرز بچ سکیں گے۔

اس قانون کے مطابق یکم جنوری 2009یا اس کے بعد پیدا ہونے والے افراد کو کبھی بھی تمباکو فروخت نہیں کیا جاسکے گا،یعنی 50سال بعد بھی کوئی فرد نیوزی لینڈ میں سگریٹ خریدنے کی کوشش کرے گا تو اسے اپنے شناختی کارڈ سے ثابت کرنا ہوگا کہ وہ کم از کم 63سال کا ہے۔

مقامی طبی حکام کو توقع ہے کہ اس قانون کی منظوری کے بعد بہت جلد نیوزی لینڈ کو تمباکو نوشی سے پاک ملک بنانے کا مقصد حاصل ہوسکے گا،نئے قانون میں کہا گیا ہے کہ سگریٹ میں نکوٹین کی مقدار میں ڈرامائی حد تک کمی کی جائے گی جبکہ ان کی فروخت عام دکانوں کی بجائے مخصوص ٹوبیکو اسٹورز میں ہوگی۔

اس قانون کے حق میں 76ووٹ ڈالے گئے جبکہ پارلیمان کے 43اراکین نے اس کی مخالفت کی،اس بل کا نفاذ 2023میں ہوگا اور اس میں صرف تمباکو مصنوعات کو ہدف بنایا گیا ہے جبکہ ای سگریٹس کا استعمال بدستور قانونی رہے گا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے