متحدہ امریکہ، کینیڈا،جرمنی، برطانیہ، فرانس، اٹلی اور جاپان پر مشتمل جی۔7 ممالک گروپ نے ایک مشترکہ بیان جاری کرتے ہوئے یوکرین کی حمایت و تعاون کرنے کے عندیہ کی تائید کی ہے۔
جرمنی کی عبوری صدارت کے ماتحت G7 ممالک کے رہنماؤں کے آن لائن اجلاس میں منظور کیے گئے مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے”ہم یوکرین کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتے ہیں اور روس کی جنگ کے تناظر میں یوکرین کے ساتھ اظہار ِ یکجہتی کرتے ہیں۔”
اعلامیہ میں روس کے یوکرین کے کلیدی بنیادی ڈھانچوں پر "غیر انسانی اور درندہ صفت ” حملوں کی مذمت کرتے ہوئے اس بات کی یاد دہانی کرائی گئی ہے کہ شہریوں کے خلاف سر زد کردہ کاروائیوں کو جنگی جرم تصور کیا جاتا ہے۔
بیان میں اس بات پر زور دیا گیا کہ ان کا مقصد بالآخر روس کی وحشیانہ جنگ سے نقصان پہنچنے والے یا تباہ ہونے والے اہم انفراسٹرکچر کی بحالی کے لیے ادائیگی کرنا ہے۔ جنگی جرائم اور دیگر مظالم کی ضرور سزا ہونی چاہیے، ہم روسی صدر اور دیگر متعلقہ حکام کو عالمی قوانین کی رو سے ذمہ دار ٹہرائیں گے۔ ہم ایک بار پھر اس چیز کا اعادہ کرتے ہیں کہ روس کے جوہری ہتھیاروں کے استعمال کے حوالے سے بیانات غیر ذمہ دارانہ بیانات ناقابل قبول ہیں اور کیمیائی، حیاتیاتی یا پھر جوہری اسلحہ کا استعمال سنگین نتائج کو جنم دے سکتا ہے۔
G7 ممالک نے یہ بھی مطالبہ کیا ہے کہ روس فوری طور پر جنگ بند کرے اور یوکرین کی سرزمین سے مکمل اور غیر مشروط طور پر دستبردار ہو جائے۔
اعلامیہ میں بحیرہ اسود اناج راہداری معاہدے میں توسیع پر بھی اطمینان کا اظہار کیا گیا۔
