مری کو ضلع کا درجہ ملنے کے بعد مختلف مسائل کا سامنا ہے مری شہر اور دیگر علاقوں میں پانی کا بحران شدت اختیار کر گیا ہے۔ شہری پانی کی بوند بوند کو ترس گئے ہیں۔ پانی سپلائی کے تالاب گندگی سے بھرے پڑے ہیں صفائی کا کوئی معقول انتظام نہیں جس کی وجہ سے مختلف بیماریاں پھلنے کا خدشہ ہے اور تالاب خالی ہیں لوگوں کا کہنا ہے جب تک بلک واٹر سپلائی سکیم کو بحال نہیں کیا جاتا ہے یہ مسلہ حل نہیں ہو گا ویسے بھی کروڑوں روپے کے پاہپ جنریٹر اور دیگر سامان عرصہ دراز سے روڈوں پر پڑے زنگ الود ہو رہے ہیں کوئی پوچھنے والا نہیں ہے جبکہ پنجاب فوڈ اتھارٹی کروڑوں روپے کے اشتہار ٹی وی پر پانی کے بارے میں دیے رہے ہیں پانی کے بارے میں لوگوں کا کہنا ہے ان کو صرف ریسٹورینٹ اور چھوٹے چھوٹے ڈابے ہی نظر آتے ہیں جن کو چلان کر دیے جاتے ہیں جبکہ اس طرف دھیان نہیں دیا جاتا ہے تالابوں پر شلٹر نہ ہونے کی وجہ سے دھوڑ مٹی اور دیگر گندگی ان میں شامل ہوتی ہے جو مختلف بیماریوں کا باعث بنتی ہے لوگوں نے ڈپٹی کمشنر ضلح مری اے سی مری اور اعلی احکام سے مطالبہ کیا ہے ہوٹلوں میں تو منرل واٹر پی کر سیاح گزارہ کر لیتے ہیں لیکن مری کی غریب عوام بھاری بر بلوں کی ادائیگی کے باوجود تین اور چار دن بعد ملنے والا گندہ پانی پینے پر مجبور ہے لوگوں کا یہ بھی کہنا ہے فوری تالابوں کی صفائی کروائی جائے اور پانی کی سپلائی کو بھی بحال کیا جائے تاکہ عوام کی پریشانیوں کو کم کیا جا سکے۔
مری میں پانی کے بحران سے عوام پریشان
القمر
