English Al Qamar Urdu جون 22, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

قطر فٹ بال ورلڈ کپ: پاکستان نے کیا کھویا، کیا پایا؟

القمر

انہوں نے مزید کہا: ’یہ درست ہے کہ قطر ویزہ سینٹر غیر معمولی حالات کے تحت ویزہ پراسیس کی صلاحیت نہیں رکھتا، شاید انہیں پتہ ہے کہ ورلڈ کپ کی وجہ سے سینٹر پر اضافی بوجھ پڑا تھا جو اب ختم ہو جائے گا۔‘

قطر سے دو لاکھ ویزے ملنے کے تاثر کو رد کرتے ہوئے، انہوں نے کہا کہ دوحہ نے 2016 میں پاکستان کو ورلڈ کپ کے لیے ایک لاکھ ویزوں کا وعدہ کیا تھا، تاہم وزیراعظم شہباز شریف کے حالیہ دورہ کے دوران اسلام آباد نے ایک لاکھ مزید کا مطالبہ رکھا۔

اس حوالے سے سمندر پار پاکستانیوں کی وزارت کے جوائنٹ سیکریٹری محمد زبیر نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ اسلام آباد قطر سے مزید دو ویزہ سینٹرز کے قیام کی بات کر رہا ہے، جس پر جلد عمل درآمد کی امید ہے۔

بیرون ملک پاکستانی ورک فورس

بیورو آف امیگریشن اینڈ اوورسیز ایمپلائمنٹ کے مطابق 1971 سے ستمبر 2022 تک ایک کروڑ 22 لاکھ پاکستانی بیرون ملک گئے، جن میں سب سے زیادہ (تقریباً 62 لاکھ) سعودی عرب، 40 لاکھ 65 ہزار متحدہ عرب امارات جبکہ عمان، قطر، بحرین اور کویت میں مجموعی طور پر 15 لاکھ 88 ہزار پاکستانی جا چکے ہیں۔

ان بیرون ملک پاکستانیوں میں سے 42 فیصد غیر ہنر مند کارکن ہیں۔

اوورسیز ایمپلائمنٹ پروموٹرز ایسوسی ایشن کے سابق چیئرمین سرفراز ظہور چیمہ کے مطابق کرونا کے بعد پوری دنیا کو لیبر کی کمی کا سامنا ہے، تاہم پاکستان میں تربیت یافتہ ہنر مند افراد کی شدید کمی ہے، جس کی وجہ سے جاپان، جنوبی کوریا اور رومانیہ میں موجود طلب کے پیمانوں کو پورا نہیں کیا جا سکا۔

’اب بھی یورپ میں 20 لاکھ کارکنوں کی ضرورت ہے، جبکہ صرف جرمنی کو 22 لاکھ ورکرز درکار ہیں، مگر وہاں کے اداروں کو جن تربیت یافتہ افراد کی ضرورت ہے وہ ہمارے پاس موجود نہیں۔‘

انہوں نے مزید کہا کہ قطر میں فٹ بال ورلڈ کپ کے بعد جو سرمایہ کاری ہونے والی ہے اس کا تخمینہ 66 ارب ڈالر ہے اور وہاں مزید پاکستانی ہنر مندوں کی کھپت ہو سکتی ہے۔

ان کے خیال میں اگر حکومت نجی شعبے کے ساتھ مل کر لائحہ عمل تشکیل دے تو پاکستان اپنی افرادی قوت کے ذریعے ملک میں زرمبادلہ کی کمی کو با آسانی پورا کر سکتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے