English Al Qamar Urdu جون 24, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

بوریل کا روس پر یورپی یونین کی پابندیوں میں ترکیہ کی شرکت کا بیان غیر منطقی ہے، روسی ترجمانِ خارجہ

القمر

روسی وزارت خارجہ کی ترجمان ماریہ زاخارووا نے یورپی یونین کے اعلیٰ نمائندے برائے خارجہ تعلقات اور سلامتی پالیسی جوزف بوریل کے روس پر یورپی یونین کی طرف سے عائد پابندیوں میں ترکیہ کی شرکت کے بارے میں ان کے بیان پر تنقید کرتے ہوئے کہا  ہے کہ یہ ایک  بالکل غیر  منطقی سوچ  ہے۔

ترجمان زاہارووا نے  بوریل  کے "ترکیہ  کے یورپی یونین کے رکن ممالک کی طرح روس  پر پابندیوں  کا  پابند ہونے ”  سے متعلق بیان کا کس طرح جائزہ لیے جانے پر  ایک سوال کا جواب دیا۔

ان کا کہنا تھا کہ  بوریل کے بیانات غیر منطقی ہیں  اور ترکیہ کو  ماسکو انتظامیہ کے ساتھ تعلقات  کی بنا پر   ہدف بنایا گیا ہے۔ یورپی یونین روس پر عائد کردہ پابندیوں میں  داخل ہونے کے لیے ترکیہ پر   دباو ڈال رہی ہے۔

زاخارووا نے  کہا کہ  بوریل جھوٹ موٹ کے پلندوں کو  پھیلانے کی کوشش میں ہیں  اور ان کی یہ حرکت  منطق سے عاری ہے۔  بوریل اور دیگر مغربی عہدیدار ترکیہ اور دیگر ممالک کے  قومی مفادات   کو نظر انداز کر رہے ہیں۔

صدر رجب طیب ایردوان نے ترکمانستان سے واپسی پر طیارے میں اخباری نمائندوں کے بوریل کے "ترکیہ کو  یورپی یونین کے رکن ممالک کی  طرح  روس پر پابندیوں  سے ہم آہنگی قائم کرنے کے ” بیان اور یورپی یونین  کے سربراہان کے  درمیان     روس۔ یوکرین جنگ  پالیسی کے معاملے میں  ان سے قریب پالیسیوں  کے  حامل    لیڈر موجود ہونے یا نہ ہونے  پر مبنی سوالات کا جواب کچھ  یوں دیا تھا۔

میں بوریل کو اپنا  مخاطب  نہیں سمجھتا ، وہ   زیادہ سے زیادہ  میولود صاحب سے  بات کر سکتا ہے۔  اس کا بیان   بالکل موزوں نہیں ہے۔ دوسرے لفظوں میں، بوریل روس کے ساتھ ہمارے تعلقات کو مقرر یا منظم نہیں کر سکتا۔  وہ  اس معاملے پر فیصلہ کرنے کا نہ تو اہل ہے اور  نہ ہی  اس کا مجاز ہے، اس کا بیان  انتہائی بیہودہ  ہے۔

جناب ایردوان  کا کہنا  تھا کہ تم کون ہو جو روس کے ساتھ ہمارے  تعلقات کا  پابندیوں کے محور میں جائزہ پیش کر رہے ہو۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے