English Al Qamar Urdu جون 26, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

کیا بابر اعظم 2023 میں کرکٹ ٹیم کے کپتان رہ سکیں گے؟

القمر
سابق ٹیسٹ کرکٹر توصیف احمد سمجھتے ہیں کہ ’پاکستان کو ٹیسٹ اور محدود اوورز کی کرکٹ کے لیے مختلف ٹیمیں رکھنا ہوں گی، بابر اعظم بطور کپتان ناکام ہو چکے ہیں انہیں اپنی بلے بازی پر توجہ دے کر پاکستان کو میچ جتوانے پر مرکوز ہو جانا چاہیے۔‘
انہوں نے کہا کہ ’پاکستان کے پاس آپشنز کم ہیں، ہم نے نوجوان کھلاڑیوں پر کام نہیں کیا، سینیئرز کھلاڑیوں نے بھی اپنے متبادل تیار نہیں کیے اور جب کسی کو اختیار دے دیا جاتا ہے وہ اپنا ایک گروپ بنا لیتا ہے جس کی وجہ سے پھر ناکامیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔‘
توصیف احمد کے خیال میں ’صرف بابر اعظم نہیں بلکہ سلیکشن کمیٹی کو بھی تبدیل کرنے کی ضرورت ہے، ٹی 20 ورلڈ کپ کے دوران بھی دوسری ٹیموں پر انحصار کر کے فائنل تک پہنچے ورنہ جنوبی افریقہ اور نیوزی لینڈ کے خلاف پرفارمنس کے علاوہ پاکستان کی کارکردگی مایوس کن تھی۔‘
تاہم کئی پاکستانی اور بین الااقوامی مبصرین بابر اعظم کی صلاحیتوں کے قائل ہیں اور ان کو سپورٹ فراہم کرنے کے حق میں ہیں۔
پاکستان اور انگلینڈ کی حالیہ ٹیسٹ سیریز کے دوران انگلینڈ کے سابق کپتان ناصر حسین کا کہنا تھا کہ بابر اعظم کو صرف میچوں کے نتیجے پر نہیں پرکھنا چاہیے بلکہ یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ ان کے ’طلسماتی بولر‘ شاہین شاہ آفریدی انجری کا باعث ٹیم کا حصہ نہیں اور دیگر بولرز بھی انجری کا شکار ہیں۔
ناصر حسین کا پاکستانی کپتان کو مشورہ دیتے ہوئے کہنا تھا کہ ’بابر سیکھ سکتے ہیں جیسے بحیثیت بیٹر آپ سیکھتے ہیں۔ اسی طرح بحیثیت کپتان بھی آپ سیکھ سکتے ہیں۔‘
انہوں نے مزید کہا کہ ’آپ ہمیشہ سیکھ سکتے ہیں، دیکھیں بین سٹوکس کیسی کپتانی کر رہے ہیں۔‘
سابق انڈین کپتان محمد کیف نے بابر اعظم اور محمد رضوان دونوں پر ہونے والی تنقید کے جواب میں کہا تھا کہ ’سوشل میڈیا ٹرینڈز کو فالو نہ کریں بلکہ ان کی کلاس دیکھیں۔ بڑے کھلاڑی صرف اس لیے نہیں جھٹلائے جا سکتے کہ وہ فارم میں نہ ہوں۔‘
لیکن پاکستان کے سابق سینیئر کرکٹر محمد حفیظ بھی کئی بار بابراعظم کی کپتانی پر تنقید کر چکے ہیں۔
ٹی20 ورلڈ کپ کے دوران ایک ٹی وی شو میں محمد حفیظ کا کہنا تھا کہ ’بابراعظم کی کپتانی ہمارے سامنے مقدس گائے بن گئی ہے۔‘
محمد حفیظ کا دعویٰ تھا کہ ’بڑے میچوں میں بابر اعظم کی کپتانی میں کوتاہیاں نظر آتی ہیں اور وہ بڑے میچوں میں اپنے بولرز اور بیٹرز کا درست استعمال نہیں کرتے۔‘

بشکریہ: اردو نیوز

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے