کراچی: امیرجماعت اسلامی سندھ وسابق ایم این اے محمد حسین محنتی نے کراچی سمیت سندھ میں مصنوعی بحران و آٹے کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے پراظہار تشویش کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسا لگتا ہے کہ ملک پرمافیازکا قبضہ برقرار ہے۔
محمد حسین محنتی نے کہا کہ زرعی ملک ہونے کے باوجود چینی کے بعد آٹے کا بحران و قیمتوں میں بلندترین اضافہ گڈگورننس کے دعویدار حکمرانوں کے لیے لمحہ فکریہ ہے، 20 کلو آٹے کا تھیلا 2500 روپے میں فروخت کرنا غریب عوام کے ساتھ سراسرظلم ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایک طرف سندھ بھر میں بدامنی کی آگ بھڑک رہی ہے،سیلاب متاثرین کی بحالی ابھی تک خواب بنی ہوئی ہے ،معیشت کی بدحالی کی وجہ سے مہنگائی کے جن نے عوام کاجینا دوبھر کردیا ہے تو دوسری جانب اشیائے خورونوش خصوصاً آٹا خریدنا عام آدمی کی پہنچ سے دور ہوگیا ہے۔
رہنما جماعت اسلامی پاکستان کا کہنا تھا کہ سندھ حکومت کی جانب سے سستے آٹے کی فراہمی ابھی تک خواب بنی ہوئی ہے، موجودہ پی ڈی ایم حکومت نے اقتدار مہنگائی کے خاتمے کا نعرہ لگاکر لیا لیکن 65روپے کلو آٹا فروخت ہونے والا آج ان کے دور میں130روپے تک میں فروخت ہورہا ہے۔

