وزیرِ دفاع خلوصی آقار نے کہا ہے کہ ہم شمالی شام میں روس کے ہمراہ مشترکہ گشتی کاروائیاں کر سکتے ہیں۔
آقار نے دارالحکومت انقرہ میں صحافیوں کے سوالات کا جواب دیا۔
28 دسمبر کو روسی دارالحکومت ماسکو میں ترکیہ۔ روس اور شام کے وزرا خارجہ کے اجلاس کے بارے میں ایک سوال کے جواب میں ترک وزیر نے بتایا کہ "ہمارا مقصد اپنے وطن و قوم کی حفاظت کرنا ہے، اس کے لیے دہشت گردی کے خلاف جدوجہد ایک انتہائی اہم عنصر ہے۔ آج تک کی گئی یہ جدوجہد اور اس کی کامیابیاں سب کے سامنے ہیں۔ اس معاملے پر ہم نے اپنے عزم کا اپنے ہم منصبوں سے اظہار کیا ہے۔ دوسری جانب اضافی مہاجرین کو پناہ دینا زیر ِ بحث نہیں ہے۔ ایک دوسرا اہم معاملہ چاہے ترکیہ میں ہوں یا پھر شام میں ، ہم شامی بھائیوں کو مشکلات سے دو چار کرنے والے کسی بھی فیصلے کو قبول نہیں کریں گے۔ ہر کس ہمارے اس موقف کو جان لے اور اسی کے مطابق پالیسیاں اختیار کرے ۔ "
ان کا کہنا تھا کہ اس ملاقات کا دوام بھی ہوگا، جس پر اتفاق رائے قائم ہوا ہے۔ ہم شام اور عراق سمیت تمام تر ہمسایہ ممالک کی زمینی سالمیت اور حاکمیت کے حقوق کا احترام کرتے ہیں، ہماری واحد کوشش وطن و قوم کا دفاع کرنا اور ان کو نقصان پہنچانے کی کوشش کرنے والے دہشت گردوں کو ناکارہ بنانا ہے۔
