چترال:
چترال میں پہلی بار منعقد ہونے والے گرلز آئس ہاکی میں بڑی تعداد میں طالبات نے شرکت کی اور گروانڈ میں جمی برف پر بہترین کھیل کا مظاہرہ کیا۔
منفی 2 سینٹی گریڈ میں گرؤانڈ میں جمی برف پر تین روزہ آئس ہاکی کا انعقاد کیا گیا جس میں گیارہ میچز کھیلے گئے جہاں چترال کےمختلف تعلیمی اداروں سے طالبات نے شرکت کی۔
ایونٹ آرگنائزرز کا کہناتھا کہ اس منفرد کھیل کا آئیڈیا بچوں کے اسپورٹس کو فروغ دینے کا تسلسل ہے،اکیڈمی میں 7 ویں جماعت سے سکینڈ ائیر تک کی طلبا اور طالبات کو Ski ،اسکٹنگ ، ice Hockey ، جیسی گیمز سکھا رہے ہیں۔
ان کہنا تھا کہ پہلی بار باقاعدہ آئس ہاکی ٹورنامنٹ کا انعقاد کیا گیا جس میں 11 کھیلاڑیوں نے حصہ لیا ، سات ہزار سے زائد فٹ بلندی پر آئس ہاکی منعقد کی گئی۔
آرگنائزر کا کہنا تھا کہ یہ کافی مہنگا کھیل ہے صرف 50 ہزار روپے میں کٹ دستیاب ہوتی ہے لیکن ھمیں خواتین کے کھیلوں کو سپورٹ کرنے میں کافی مدد ملی جس سے ضلعی انتظامیہ اور مقامی لوگوں نے بھی بہت تعاون کیا۔
ایونٹ آرگنائزر کے مطابق پہلی بار اس منفرد کھیل کا کافی اچھا تجربہ رہا ، طالبات کو ٹریننگ کے بعد عملی طور پر کھیلنے کا موقع ملا ، آئس ہاکی پارہ نقطہ انجماد سے گرنے کے بعد کھیلے جانے والاکھیل ہے، گرؤانڈ میں پڑا پانی برف میں تبدیل ہوا تو اس روز سے گیمز جاری ہیں فروری تک یہاں بچے پریکٹس کرتے دینگے۔
انہوں نے بتایا کہ آئس ہاکی سے نہ صرف صوبے میں ایسی گیمز کو فروغ ملے گا بلکہ سیاحوں کی آمد سے عالمی سطح پر پاکستان کا مثبت پہلو اجاگر ہوگا۔
انہوں نے کہا کہ ہزاروں فٹ بلندی پر ہونیوالے کھیل کو دیکھنے کے لئے بڑی تعداد میں شائقین نے شرکت کی،خواتین کے پہلی بار آئس ہاکی ٹورنامنٹ میں کنیڈین ہائی کمشین کے حکام نے بھی بطور مہمان شرکت کی اور مثبت سرگرمیوں کے فروغ کو سراہا۔
