صدارتی ترجمان ابراہیم قالن نے کہا کہ روس کی جانب سے یوکرین میں عارضی جنگ بندی کے اعلان کو 36 گھنٹے سے آگے جانا چاہیے اور "ایسے حالات پیدا کرنے کی ہر ممکن کوشش کی جانی چاہیے جہاں دونوں فریق اکٹھے ہو کر تنازع کو روک سکیں۔”
قالن نے CNN انٹرنیشنل کےپروگرام میں روس-یوکرین جنگ کے حوالے سے تازہ ترین پیش رفت کا جائزہ پیش کیا۔
یوکرین میں 36 گھنٹے کی یکطرفہ جنگ بندی کے اعلان کے حوالے سے روس کے خیالات اور ردعمل کے بارے میں دریافت کیے جانے پر، قالن نے صدر رجب طیب ایردوان کی روسی صدر ولادیمیر پوتن اور یوکرینی صدر ولادیمیر زیلنسکی کے ساتھ فون کال میں یکطرفہ جنگ بندی کے مطالبے کا اعادہ کیا۔
انہوں نے کہا” اس جنگ بندی کو صرف 36 گھنٹے تک نہیں آگے بڑھایا جانا چاہیے ، لیکن دوطرفہ طور پر جنگ بندی ابھی تک حاصل نہیں ہوئی ہے، جو "یہ ظاہر کرتی ہے کہ جنگ اب کس قدر طول پکڑ چکی ہے۔”
یہ بتاتے ہوئے کہ دونوں فریق میدان جنگ میں فیصلہ کن فتح حاصل کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں، قالن نے اس بات پر زور دیا کہ ہم خاص طور پر زاپوروزے نیوکلیئر پاور پلانٹ کے آس پاس کے علاقوں سمیت عمومی جنگ بندی کے لیے کوششیں جاری رکھیں گے، ہم اس بات کو یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ اس خطے میں کوئی تنازعات اور حادثات پیش نہ آئیں۔
اس سوال کا جواب دیتے ہوئے کہ ترکی نے "یکطرفہ جنگ بندی” کا مطالبہ کیوں کیا، قالن نے کہا کہ ” اس جنگ کو برقرار رکھنے والی اور کسی بھی مذاکرات کو مزید مشکلات بنانے والی روسی بمباری ہی ہے۔”
ترجمان کا کہنا تھا کہ جنگ یوکرین میں ہو رہی ہے، اس لیے یوکرین کے باشندے روس کی جانب سے اس بمباری اور جنگ کو روکے بغیر مذاکرات کی طرف جانے کی کوششوں پر شکوک و شبہات کا شکار ہیں۔
انہوں نے توجہ مبذول کرائی کہ روس ۔یوکرین جنگ ایک ماہ تک اپنے پہلے سال میں داخل ہو جائے گی، اگر جنگ کو اسی طرح جاری رہنے دیا گیا تو 2023 یوکیرین سمیت دیگر ممالک کے لیے معیشت، توانائی، اناج اور خوراک کے لحاظ سے اور بھی مشکل سال ثابت ہو گا۔
عالمی مالیاتی فنڈ کی جانب سے سال 2023 کے 2022 سے بھی کٹھن گزرنے کا تخمینہ لگانے کا ذکر کرنے والے قالن نے بتایا کہ بڑی معیشتوں میں جمود کا مشاہدہ ہو گا۔
صدارتی ترجمان نے مزید کہا کہ ” ان تمام عوامل کو مد نظر رکھنے سے ہمیں در حقیقت کہیں زیادہ حقیقت پسندانہ اور طویل المدت نقطہ نظر کو اپنانا ہوگا اور دونوں فریقین کو یکجا کرتے ہوئے جھڑپوں کو روک سکنے والی شرائط اور حالات کو پیدا کرنے کے ہمیں بھر پور کوششیں صرف کرنی چاہییں۔
