English Al Qamar Urdu جون 29, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

عبدالولی خان یونیورسٹی مردان: پروفیسر اخترخان پر قاتلانہ حملہ کرنے والے ملزمان گرفتار نہ ہو سکے، طلبا کا تیسرے روز بھی احتجاج جاری

القمر

عبدالولی خان یونیورسٹی مردان کے پروفیسراختر خان پر قاتلانہ حملہ کرنے والے ملزمان تین روز گزرنے کے باوجود بھی گرفتار نہ ہو سکے، طلبا کا احتجاج جاری ہے، احتجاج میں طلبا کے ساتھ یونیورسٹی کی فیکلٹی اورسول سوسائٹی کے افراد بھی شامل ہیں۔

منگل کے روز پروفیسراخترخان روزمرہ کی خرید وفروخت کے لیے قربی مارکیٹ میں گئے توواپسی پر چار مسلح آدمیوں نے ان کو یرغمال بنا کر تشدد شروع کر دیا، جب آس پاس کے لوگ اکٹھے ہو کر ان کی مدد کو آئتٓے تو مسلح افراد نے ان کو جان سے مارنے کی دھکمیاں دیں۔

پروفیسراخترخان کا کہنا تھا کہ ان کے پاس کوئی رقم تو تھی نہی جس کو لوٹنے کے لیے مسلح افراد نے ان پر حملہ کیا تھا اس لیے ان کو لگتا ہے کہ یہ حملہ ان کی جان لینے کی کوشش میں کیا گیا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ غیر عدالتی تشدد اورنا انصافی کے خلاف آوازاٹھاتے ہیں اور وہ یہ کام کرتے رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کی بزدلانہ کاروائیوں سے اہ پانے مشن سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔

پروفیسراخترخان پر اس بزدلانہ حملے کے ردعمل میں مردان میں طلبا اور اساتذہ اکے علاوہ سول سوسائٹی اور میڈیا کے افراد بھی اس احتجاج میں شامل ہیں۔
‘دی فرائیڈے ٹائمز’ سے بات کرتے ہوئے صحافی جمال صافی نے کہا کہ سوشل میڈیا پرانسانی حقوق کے لیے آوازبلند کرنا کوئی جرم نہیں ہے، اس طرح کے حملے آزادی رائے کے حق کو سلب کرنے کی کوشش ہے۔

مردان شہر کے مئیرحمایت اللہ خان نے بھی حتجاج میں شریک ہو کر پروفیسراخترخان کے ساتھ اظہار یک جہتی کرتے ہوئے کہا کہ اس معاملے کی جلد اور صاف تحقیقات ہونی چاہیئں۔

پختونخواہ الاسی تحریک کے بانی ڈاکٹرسیدعالم نے کہا کہ جب مثال خان کو قتل کیا گیا تھا تو پروفیسراخترخان ان افراد میں سے تھے جو مذہبی جنونیت اور انتہا پسندی کے خلاف کھڑے تھے۔

یا درہے کہ خیبر پختونخواہ میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے افراد پر حملوں میں اضافہ ہو رہا ہے، 7 جنوری کو صوابی میں انسانی حقوق کے سرگرم رکن عبدالولی خان کو نا معلوم افراد نے قتل کر دیا تھا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے