کراچی: ملک میں پیر کے روز علی الصبح بجلی کے بریک ڈاؤن کے بعد اگلے روز تک موبائل اور انٹرنیٹ سروس شدید متاثر ہے۔
میڈیا ذرائع کے مطابق بجلی کی ملک بھر میں بندش کے اثرات 36 گھنٹوں کے بعد بھی قائم ہیں، جس کے نتیجے میں ٹیلی کام سروسز کے علاوہ انٹرنیٹ کی فراہمی بھی مکمل طور پر بحال نہیں ہو سکی، جس سے صارفین شدید پریشانی میں مبتلا ہیں۔
نجی ٹی وی کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ موبائل فون سروس کے علاوہ رقوم کے ڈیجیٹل لین دین اور ٹیلی کام کمپنیوں کے سروس سینٹر چلانے، بیلنس لوڈ کرنے میں بھی مشکلات کا سامنا کیا جا رہا ہے۔ اس سلسلے میں ٹیلی کام انڈسٹری کے ذرائع کے مطابق بجلی کی بندش کے باعث ٹیلی کام کمپنیز ملک کے مختلف حصوں میں اب بھی بیک اپ توانائی پر آپریٹ کر رہی ہیں۔
موبائل ٹاورز کو چلانے کے لیے جنریٹرز استعمال کیے جارہے ہیں تاہم دُور دراز علاقوں تک جنریٹر کا ایندھن پہنچانے میں لاجسٹک مسائل کا بھی سامنا ہے۔
انڈسٹری ذرائع کا کہنا ہے کہ بجلی کے بریک ڈاؤن کی وجہ سے ٹیلی کام کمپنیوں کو ایندھن کی مد میں بھاری مالیت کے اضافی اخراجات کا سامنا ہے۔معمول کی لوڈ شیڈنگ کے مقابلے میں پچھلے 24 گھنٹوں کے دوران ٹیلی کام کمپنیز 5لاکھ لیٹر زائد ایندھن استعمال کر چکی ہیں۔
ذرائع کے مطابق نیٹ ورک کو مزید بیک اپ توانائی پر چلانا دشوار ہوتا جا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مکمل طور پر بجلی بحال نہ ہوئی تو ٹیلی کام اور انٹرنیٹ برانڈ بینڈ کا ملک گیر نیٹ ورک بیٹھنے کا خدشہ ہے۔ انڈسٹری نے وفاقی وزارت توانائی سے اپیل کی ہے کہ ٹیلی کام سروسز کو جاری رکھنے کے لیے نیشنل گرڈ سے بجلی کی جلد از جلد مستحکم بحالی کو یقینی بنایا جائے ۔

