English Al Qamar Urdu جون 26, 2026

Al Qamar Online

The Largest and 1st Online Urdu News Network

بنگلہ دیش آئی ایم ایف سے 4.7 ارب ڈالر کا قرض لینے میں کامیاب

ڈھاکہ:بنگلہ دیش مالی بحران سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) سے 4.7 ارب ڈالر کا قرض حاصل کرنے میںکامیاب ہوگیا۔

غیر ملکی خبر رساں ایجنسی کے مطابق آئی ایم ایف نے معاشی بحران کے پیش نظر گزشتہ برس جنوبی ایشیا کے تین ممالک کی طرف سے قرض لینے کی درخواستوں میں سے بنگلہ دیش کی درخواست منطور کرتے ہوئے اسے 4.7 ارب ڈالر کا قرض دینے کا اعلان کیا ہے۔

رپورٹ کے مطابق اگلے سال ہونے والے عام انتخابات سے قبل آئی ایم ایف کی طرف سے قرض کی منظوری وزیراعظم شیخ حسینا کی کامیابی ہے جہاں ملک کا کرنٹ اکاونٹ خسارہ بڑھ رہا تھا، ٹکہ کی قدر گر رہی تھی اور زر مبادلہ کے ذخائر میں کمی آرہی تھی۔

رپورٹ کے مطابق بنگلہ دیش کو آئی ایم ایف کے توسیعی قرض سہولت کے تحت تقریبا 3.3 ارب ڈالر دیے جائیں گے جس میں سے 47.6 کروڑ ڈالر کی قسط فوری طور پر جاری کی جائے گی۔

آئی ایم ایف کے ایگزیکیٹو بورڈ نے بنگلہ دیش کو موسمیاتی سرمایہ کاری کے لیے اس کی نئی تشکیل کردہ لچک اور پائیداری کی سہولت کے تحت بھی 1.4 ارب ڈالر دینے کا اعلان کیا ہے اور ایشیا میں بنگلہ دیش وہ پہلا ملک ہے جس نے یہ رقم حاصل کی ہے۔

آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ ان قرضوں سے میکرو اکنامک استحکام کا تحفظ ہوگا اور بفرز کو دوبارہ تعمیر کریں گے جبکہ حکام کے اصلاحاتی ایجنڈے کو آگے بڑھانے میں مدد کریں گے۔آئی ایم ایف کے ڈپٹی مینیجنگ ڈائریکٹر انتونیتی ایم سایہ نے کہا کہ آزادی کے بعد بنگلہ دیش نے غربت کم کرنے اور معیار زندگی میں تیزی سے ترقی کی ہے۔

 تاہم عالمی وبا کورونا وائرس اور روس کی یوکرین میں جنگ نے بنگلہ دیش کی تیزی سے ترقی کرتی معیشت میں خلل پیدا کیا ہے۔انہوں نے کہا کہ متعدد مسائل نے بنگلہ دیش میں میکرو ایکنامک کے لیے چیلنج پیدا کردیا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ برس بنگلہ دیش نے اپنے زر مبادلہ کے ذخائر کو بڑھانے کی کوشش میں ورلڈ بینک اور ایشیائی ترقیاتی بینک سے 2 ارب ڈالر کا قرض لیا تھا۔رپورٹ کے مطابق بنگلہ دیش کا کرنٹ اکاونٹ خسارہ گزشتہ مالی سال میں ریکارڈ 18.7 ارب ڈالر تک پہنچ گیا تھا جو 30 جون کو ختم ہوا کیونکہ ملبوسات کی برآمدات توانائی کی لاگت میں اضافے کو پورا کرنے میں ناکام رہی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے